وائٹ ہاؤس کے قریب 3 نیشنل گارڈ اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے میں گرفتار افغان شہری رحمان اللہ لکانوال کے بارے میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق 29 سالہ لکانوال افغانستان میں امریکی حکومت کے مختلف اداروں، خصوصاً سی آئی اے، کے ساتھ بطور ’پارٹنر فورس‘ کام کر چکا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:وائٹ ہاؤس کے نزدیک نیشنل گارڈز پر فائرنگ کرنیوالا رحمان اللہ لکنوال کون ہے؟

فوکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق لکانوال ستمبر 2021 میں ’آپریشن الائز ویلکم‘ کے تحت امریکا پہنچا، جو افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر منتقلی کا پروگرام تھا۔ انٹیلی جنس ذرائع نے تصدیق کی کہ لکانوال نے قندھار میں امریکی خفیہ اداروں کے ساتھ قریبی طور پر خدمات انجام دیں۔

RAW’s overseas influence web is getting exposed layer by layer.


Rahmanullah Lakanwal; a former ANA officer who moved to the U.S. in 2021 became one of RAW’s key handlers, funding PTM and pushing Afghan groups into anti-Pakistan protests across Europe.

From Sikh killings in… pic.twitter.com/EoEvpoGVtZ

— Dr Irum Khan (@IKViews) November 27, 2025

سابق سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے فوکس نیوز کو بتایا کہ یہ فرد اور اس جیسے کئی دیگر لوگوں کو امریکا نہیں لایا جانا چاہیے تھا۔ ریٹکلف نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان سے انخلا کے بعد جن افراد کو امریکا منتقل کیا، ان کی سیکیورٹی جانچ میں سنگین کمزوریاں سامنے آ رہی ہیں۔

ایف بی آئی نے واقعے کی تحقیقات سنبھال لی ہیں اور حکام کے مطابق فائرنگ کو ’بین الاقوامی دہشت گردی‘ کے زاویے سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔ دونوں زخمی ویسٹ ورجینیا نیشنل گارڈ اہلکاروں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

بدھ کی شب قوم سے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کو ’سفاکانہ اور گھات لگا کر کیا گیا دہشتگردانہ اقدام‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ ہمارے فوجیوں اور پوری قوم کے خلاف جرم ہے‘ اور یقین دلایا کہ ’اس حملے کے ذمہ دار کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔‘‘

واشنگٹن کی میئر موریئل باؤزر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ حملہ ’ٹارگٹڈ شوٹنگ‘ تھی اور حملہ آور نے خاص طور پر گارڈز کو ہی نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق مشتبہ شخص کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا۔

واقعے نے امریکا میں افغان پناہ گزینوں کی سیکیورٹی اسکریننگ اور 2021 کے انخلا کے بعد نافذ کیے گئے پروگراموں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ انٹیلی جنس حلقے اس معاملے کو امریکی داخلی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغان دہشتگرد امریکا رحمان اللہ لنکوال سی آئی اے واشنگٹن

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغان دہشتگرد امریکا سی ا ئی اے واشنگٹن کے مطابق

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان