کیا امریکیوں پر حملہ آور افغان دہشتگرد سی آئی اے کے لیے خدمات انجام دیتا رہا؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
وائٹ ہاؤس کے قریب 3 نیشنل گارڈ اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے میں گرفتار افغان شہری رحمان اللہ لکانوال کے بارے میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق 29 سالہ لکانوال افغانستان میں امریکی حکومت کے مختلف اداروں، خصوصاً سی آئی اے، کے ساتھ بطور ’پارٹنر فورس‘ کام کر چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:وائٹ ہاؤس کے نزدیک نیشنل گارڈز پر فائرنگ کرنیوالا رحمان اللہ لکنوال کون ہے؟
فوکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق لکانوال ستمبر 2021 میں ’آپریشن الائز ویلکم‘ کے تحت امریکا پہنچا، جو افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر منتقلی کا پروگرام تھا۔ انٹیلی جنس ذرائع نے تصدیق کی کہ لکانوال نے قندھار میں امریکی خفیہ اداروں کے ساتھ قریبی طور پر خدمات انجام دیں۔
RAW’s overseas influence web is getting exposed layer by layer.
Rahmanullah Lakanwal; a former ANA officer who moved to the U.S. in 2021 became one of RAW’s key handlers, funding PTM and pushing Afghan groups into anti-Pakistan protests across Europe.
From Sikh killings in… pic.twitter.com/EoEvpoGVtZ
— Dr Irum Khan (@IKViews) November 27, 2025
سابق سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے فوکس نیوز کو بتایا کہ یہ فرد اور اس جیسے کئی دیگر لوگوں کو امریکا نہیں لایا جانا چاہیے تھا۔ ریٹکلف نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان سے انخلا کے بعد جن افراد کو امریکا منتقل کیا، ان کی سیکیورٹی جانچ میں سنگین کمزوریاں سامنے آ رہی ہیں۔
ایف بی آئی نے واقعے کی تحقیقات سنبھال لی ہیں اور حکام کے مطابق فائرنگ کو ’بین الاقوامی دہشت گردی‘ کے زاویے سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔ دونوں زخمی ویسٹ ورجینیا نیشنل گارڈ اہلکاروں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
بدھ کی شب قوم سے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کو ’سفاکانہ اور گھات لگا کر کیا گیا دہشتگردانہ اقدام‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ ہمارے فوجیوں اور پوری قوم کے خلاف جرم ہے‘ اور یقین دلایا کہ ’اس حملے کے ذمہ دار کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔‘‘
واشنگٹن کی میئر موریئل باؤزر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ حملہ ’ٹارگٹڈ شوٹنگ‘ تھی اور حملہ آور نے خاص طور پر گارڈز کو ہی نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق مشتبہ شخص کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا۔
واقعے نے امریکا میں افغان پناہ گزینوں کی سیکیورٹی اسکریننگ اور 2021 کے انخلا کے بعد نافذ کیے گئے پروگراموں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ انٹیلی جنس حلقے اس معاملے کو امریکی داخلی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان دہشتگرد امریکا رحمان اللہ لنکوال سی آئی اے واشنگٹن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان دہشتگرد امریکا سی ا ئی اے واشنگٹن کے مطابق
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم