Jasarat News:
2026-07-24@05:15:53 GMT

پاکستان، اسرائیل: کیا پالیسی واقعی الٹ گئی؟

اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251121-03-3
(1)
جاوید انور
1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم نواز شریف کو اعتماد میں لیے بغیر کارگل کی چڑھائی کی۔ بہت سے تجزیہ کاروں اور سابق امریکی سفارت کاروں کے مطابق یہ آپریشن امریکی اشارے پر ہوا تھا۔ جب بھارت کو مکمل طور پر امریکی کیمپ میں منتقل کرنے اور اس کی معیشت بڑی امریکی کمپنیوں کے لیے کھولنے کے مقاصد پورے ہو گئے تو واشنگٹن نے مشرف کو واپسی کا حکم دے دیا۔ کارگل کے ساتھ ہی مشرف کا پروفائل بلند کیا جا رہا تھا کیونکہ 9/11 کے فوراً بعد افغانستان پر حملے کا فیصلہ ہو چکا تھا اور امریکا کو پاکستان میں پارلیمنٹ نہیں، صرف ایک شخص سے ڈیلنگ چاہیے تھی۔ وہ شخص پاک فوج کا سربراہ ہوتا ہے، ہمیشہ سے یہی رہا ہے۔
چند ماہ بعد اکتوبر 1999ء میں مشرف نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لا لگا دیا۔ یہ قدم بھی واشنگٹن کی ملی بھگت سے اٹھایا گیا۔ مشرف کے اسرائیل اور مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے قدیم تعلقات تھے۔ 1993-95ء میں میجر جنرل کے عہدے پر وہ بے نظیر بھٹو کے وفد کے رکن کی حیثیت سے کئی بار امریکا گئے۔ اسی عرصے میں انہوں نے واشنگٹن میں خفیہ طور پر بے نظیر کو موساد کے افسران اور اسحاق رابن کے خصوصی ایلچی سے ملاقات کرائی (یہ بات متعدد ذرائع اور سابق سفارت کاروں نے بیان کی ہے، دیکھیے ویکی پیڈیا، انگریزی)۔ اس دور میں ہی ان کے شوکت عزیز سے گہرے دوستانہ تعلقات استوار ہوئے جو سٹی بینک کے عالمی سربراہ تھے۔

9/11 کے بعد مشرف واحد مطلق العنان حکمران تھے۔ انہوں نے امریکی حملے کے لیے پاکستان کی تمام فضائی، بحری اور زمینی سہولتیں فراہم کیں۔ اسلامی امارت افغانستان کے سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کو اسلام آباد سے اغوا کرکے سی آئی اے کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ سفارتی تاریخ کی بدترین بدمعاشی تھی۔ مشرف نے خود اپنی سوانح عمری ’’ان دی لائن آف فائر‘‘ میں لکھا ہے کہ سیکڑوں (بعض اندازوں کے مطابق ہزاروں) پاکستانیوں اور غیر ملکیوں کو صرف ڈاڑھی یا مذہبی لباس کی بنیاد پر پکڑ کر امریکیوں کے حوالے کیا گیا۔ سابق سی آئی اے آفیسر جان کرائکو نے اپنے ایک بھانڈا پھوڑ (Whistle Blowing) انٹرویو (اے این آئی؍ یوٹیوب) میں کھل کر کہا: ’’ہم نے بنیادی طور پر مشرف کو خرید لیا تھا۔ پاکستانی آئی ایس آئی اور فوج کو کیش میں کروڑوں ڈالر دیے۔ آمروں سے ڈیلنگ آسان ہوتی ہے کیونکہ میڈیا اور عوامی رائے کی فکر نہیں کرنی پڑتی۔ مشرف نے ہمیں جو چاہے کرنے دیا‘‘۔

’’وار آن ٹیرر‘‘ کے نام پر وزیرستان اور فاٹا میں امریکی ڈرون حملے، مدرسوں پر بمباری، ہزاروں شہری ہلاکتیں، سب کچھ پاکستانی ریاستی مشینری کی آشیرباد سے ہوا۔ یہ سلسلہ آج بھی مختلف ناموں سے جاری ہے کیونکہ اس میں بے پناہ ڈالر آتے ہیں۔ 2019ء کا پلواما، بالاکوٹ ڈراما بھی اسی تسلسل کا حصہ تھا۔ سابق گورنر مقبوضہ جموں و کشمیر ستیہ پال ملک نے 2023ء میں دی وائر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سی آر پی ایف کے قافلے پر حملے کی 11 سے زائد انٹیلی جنس وارننگز تھیں، ہوائی جہاز مانگا گیا مگر جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا۔ مقصد؟ مودی کو قومی ہیرو بنانا تاکہ لوک سبھا انتخابات میں وہ بھاری اکثریت سے جیتیں۔ بالاکوٹ میں بھارت نے کوئی دہشت گرد کیمپ تباہ نہیں کیا، چند درخت گرے، مگر مودی کو مطلوبہ ’’سرجیکل اسٹرائیک‘‘ کا لیبل مل گیا۔ ابھینندن کو فوری رہا کرنا بھی اسی اسکرپٹ کا حصہ تھا۔ بھارت، پاکستان، امریکا اور اسرائیل سب ایک پیج پر تھے۔ اب 2025ء میں مئی کے وسط میں ہونے والی چار روزہ پاک، بھارت فضائی لڑائی اور اس کے فوراً بعد سیز فائر، کیا واقعی کوئی اتفاقیہ واقعہ تھا؟ یا پھر جنرل عاصم منیر کا قد کاٹھ بلند کرنے، انہیں ’’فیلڈ مارشل‘‘ کا درجہ دینے، 27 ویں ترمیم کے ذریعے طاقت کا ارتکاز ان کے ہاتھوں میں دینے اور آنے والے بڑے ایڈونچر کے لیے زمین ہموار کرنے کا مرحلہ تھا؟

یہ بڑا ایڈونچر کیا ہو سکتا ہے؟ افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف نیا آپریشن، ابراہم اکارڈز کی قبولیت، پاکستان کا اسرائیل کو باضابطہ تسلیم کرنا، اور ممکنہ طور پر مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے لیے پاکستانی فوج کی براہ راست یا بالواسطہ شمولیت۔ ظاہری تصویروں، بیانات اور واویلا کے باوجود زمینی حقائق کچھ اور ہی بتا رہے ہیں۔ بھارت ہو یا پاکستان، دونوں ممالک کی فوجی (بھارت میں سیاسی) قیادتیں ایک ہی بیرونی طاقتوں کے مفادات کی زنجیر سے جکڑی ہوئی ہیں۔ پاکستان میں27 ویں آئینی ترمیم نے آخری رکاوٹ بھی ختم کر دی ہے۔ اب واشنگٹن کو نہ پارلیمنٹ سے سروکار ہے، نہ میڈیا سے، نہ عوام سے۔ بس ایک فون کال کافی ہے۔ اور لنچ بہت ’’پرلطف‘‘ ہو سکتا ہے۔

(خونیں لنچ کی حقیقت اور آنے والا خونریز پلان اگلی قسط میں)

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے اور اس

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا