Jasarat News:
2026-07-24@10:35:46 GMT

بنگلا دیش کی سیاسی تاریخ کا نیا باب

اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251121-03-4
بنگلا دیش کی سیاسی تاریخ میں ایک اور غیر معمولی باب اس وقت رقم ہوا جب انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد اور سابق وزیر داخلہ اسدالزماں خان کمال کو انسانیت کے خلاف سنگین جرائم میں سزائے موت سنادی۔ سابق پولیس چیف عبداللہ ال مامون، جنہوں نے عدالت میں جرم قبول کیا، کو پانچ برس قید کی سزا دی گئی۔ فیصلے نے نہ صرف ڈھاکا بلکہ پورے خطے میں ایک سیاسی ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس محمد غلام مرتضیٰ نے 453 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ فیصلے میں تحریر ہے کہ ایک لیک آڈیو کال اور دیگر شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ شیخ حسینہ نے مظاہرہ کرنے والے طلبہ کے خلاف طاقت کے استعمال کی ہدایات دیں، ان کی آواز دبانے کے لیے ’’توہین آمیز اور جابرانہ اقدامات‘‘ کیے، اور ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے تحریک کو مزید بھڑکایا۔ عدالت نے مزید کہا کہ جس سیاسی جماعت نے ریاستی تشدد میں مرکزی کردار ادا کیا ہو، وہ آئندہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی مجاز نہیں رہتی۔ اس بنیاد پر عوامی لیگ کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کی سفارش بھی سامنے آئی ہے۔ یہ اقدام جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک مثال بن سکتا ہے، جہاں حکمران جماعتوں پر ریاستی قوت کے بیجا استعمال کے الزامات اکثر دہرائے جاتے ہیں۔ فیصلے کے بعد عدالت کے اندر اور باہر کا منظر ایک سیاسی و سماجی کیفیت کی بھرپور عکاسی کرتا تھا۔ کورٹ روم کے اندر موجود افراد نے تالیاں بجا کر فیصلے کا خیرمقدم کیا، جبکہ ڈھاکا کی شاہراہوں پر لوگوں نے قومی پرچم لہراکر جشن منایا۔ کئی مظاہرین نے بنگلا دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمن کے گھر کے باہر جمع ہو کر اس کی مسماری کا مطالبہ بھی کیا یہ قدم اس بات کا غماز ہے کہ حالیہ واقعات نے ملکی جذبات کو کس حد تک جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس نے فیصلے کو ’’تاریخی سنگ ِ میل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بنگلا دیش نے پہلی مرتبہ ریاستی تشدد اور طاقت کے ناجائز استعمال کے خلاف جرأت مندانہ پیش رفت کی ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف انصاف کے تقاضے پورے کرتا ہے بلکہ اگلی نسلوں کے لیے ایک اخلاقی مثال بھی قائم کرتا ہے۔ حیران کن طور پر فیصلے کے فوری بعد بنگلا دیشی وزارت خارجہ نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ مفرور سزا یافتہ شیخ حسینہ اور اسدالزماں خان کو ڈھاکا کے حوالے کرے۔ وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ: ’’انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کو کسی دوسرے ملک میں پناہ دینا نہ صرف غیر دوستانہ رویہ ہے بلکہ انصاف کی توہین بھی ہے‘‘۔ یہ مطالبہ جنوبی ایشیا کی سفارت کاری میں ایک نیا موڑ ہے۔ بھارت کا ردِعمل کیا ہوگا؟ اس کا اندازہ آنے والے ہفتوں میں ہوگا، لیکن یہ حقیقت واضح ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئی کشمکش نے جنم لے لیا ہے۔

جماعت ِ اسلامی بنگلا دیش نے فیصلے کو متاثرہ خاندانوں کے لیے ’’جزوی تسکین‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ برسوں سے انصاف کے منتظر افراد آج سکون کا سانس لے سکتے ہیں۔ اس کے برعکس نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) کے کنوینر ناہید اسلام نے ڈھاکا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ شیخ حسینہ کو ایک ماہ کے اندر واپس لا کر سزا پر عمل درآمد کیا جائے۔ ان کے بقول: ’’جولائی انقلاب کے ہزاروں شہیدوں اور زخمیوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا آج ازالہ ہو گیا ہے‘‘۔ یہ بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک کی ایک بڑی آبادی اس فیصلے کو ریاستی استحکام اور قومی تطہیر کی جانب اہم قدم سمجھتی ہے۔

اس فیصلے کے قانونی پہلو نہایت پیچیدہ مگر اہم ہیں۔ انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کا قیام اگرچہ عالمی قوانین سے متاثر ضرور ہے، مگر اس کی حیثیت مکمل طور پر ملکی عدلیہ کے دائرۂ اختیار میں آتی ہے۔ اس وجہ سے چند بین الاقوامی حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا سزائے موت جیسے انتہائی اقدام کو بین الاقوامی قانونی معیار کے مطابق سمجھا جا سکتا ہے؟ لیکن بنگلا دیشی حکام کا مؤقف ہے کہ جب معاملہ ریاستی تشدد، قتل ِ عام اور مظاہرین کے خلاف دانستہ کارروائیوں کا ہو تو سزا میں نرمی انصاف کا خون کرنے کے مترادف ہوگی۔

شیخ حسینہ واجد کے خلاف مقدمے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ آیا ریاست کے اعلیٰ ترین عہدوں پر موجود افراد کو ان کے فیصلوں، احکامات یا ’’غفلت‘‘ پر کس طرح جواب دہ ٹھیرایا جائے۔ دنیا بھر میں اس پر اختلافات موجود ہیں، مگر اس مقدمے نے اس بحث کو نئی توانائی دی ہے۔ اگر باضابطہ شواہد یہ ثابت کریں کہ ریاستی مشینری کو سیاسی مخالفین یا مظاہرین پر جبر کے لیے استعمال کیا گیا، تو یہ صرف قانون کی نہیں بلکہ جمہوریت کی اخلاقی بنیادوں کی بھی نفی ہے۔ بنگلا دیشی ٹریبونل کے حالیہ فیصلے نے اس حد کو واضح کر دیا ہے کہ ریاستی طاقت کے استعمال کی ’’سرخ لکیر‘‘ کہاں کھڑی ہے۔

عدالت کی آبزرویشن کہ عوامی لیگ آئندہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکتی، ایک بہت بڑے سیاسی دھماکے سے کم نہیں۔ عوامی لیگ نصف صدی سے زیادہ عرصے تک بنگلا دیشی سیاست کی محرک قوت رہی ہے۔ اگر اس جماعت کی تحلیل کا قانونی عمل شروع ہوتا ہے تو بنگلا دیش کا سیاسی نقشہ سرے سے بدل سکتا ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ بنگلا دیش کی سیاست میں ایک نئے عہد کے آغاز کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ کچھ حلقے اسے انصاف کی جیت قرار دے رہے ہیں تو کچھ اسے سیاسی انتقام کا شائبہ بھی سمجھتے ہیں۔ مگر ایک بات طے ہے کہ بنگلا دیشی معاشرے میں ’’ریاستی تشدد‘‘ کے خلاف حساسیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اگر حکومت نے شفافیت، قانون کی حکمرانی اور عوامی شمولیت کو یقینی بنایا تو یہ فیصلہ ملک کو ایک زیادہ مضبوط، زیادہ ذمے دار اور زیادہ جمہوری ریاست کی سمت لے جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ریاستی تشدد بنگلا دیشی بنگلا دیش کے خلاف میں ایک سکتا ہے کے لیے

پڑھیں:

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں میڈیا انڈسٹری، پیکا قوانین اور صحافیوں کے فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سینیٹر عبدالشکور، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر جان محمد نے شرکت کی۔

کمیٹی کو این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

کمیٹی نے فلم "بلھا" میں حضرت بابا بلھ شاہ کے امن کے پیغام کی مبینہ غلط ترجمانی کا بھی نوٹس لیا، اور مشاہدہ کیا کہ فلم نے معروف صوفی بزرگ کی پرامن تعلیمات کو مرکزی کردار کے ذریعے تشدد اور بندوقوں سے جوڑ کر مسخ کیا ہے۔ اراکین نے اس بنیاد پر سوال اٹھایا کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز نے اس فلم کی منظوری کس طرح دی۔ اگرچہ سنسر بورڈ کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ فلم پنجاب اور سندھ کے سنسر بورڈز سے بھی منظور شدہ ہے، تاہم کمیٹی نے اس توجیہہ کو مسترد کر دیا۔ اراکین نے سنسر بورڈ کے ارکان کی تقرری کے معیار پر بھی سوال اٹھایا اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس طرح کی تقرریوں کے لیے ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار وضع کرے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

تفصیلی غوروخوض کے بعد، کمیٹی نے سفارش کی کہ فلم "بلھا" کے پروڈیوسرز کو کہا جائے کہ وہ اس کا نام تبدیل کریں اور وہ قابلِ اعتراض مکالمہ ہٹائیں جس میں مرکزی کردار نے خود کا موازنہ بابا بلھ شاہ سے کیا ہے، بصورت دیگر فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کی جائے جس میں یوٹیوب سے اس کا ممکنہ اخراج بھی شامل ہو۔

کمیٹی کو وفاقی حکومت کے ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے فلیٹس اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ میڈیا ورکرز کے کوٹے کے تحت الاٹمنٹ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ صحافیوں کے کوٹے سے متعلق مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ اس طویل تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، کمیٹی نے اپنی سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی اور مسئلے کے حل کو آسان بنانے کے لیے سینیٹرز پرویز رشید، وقار مہدی اور عبدالشکور پر مشتمل ایک مانیٹرنگ سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔

سینیٹر سرمد علی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ معاملے کا جائزہ لینے، موجودہ پالیسی پر نظرثانی کرنے اور ایک ماہ کے اندر الاٹمنٹس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر صحافیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ کمیٹی نے مستقبل کی ہاؤسنگ سکیموں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے کوٹے میں اضافے کی بھی سفارش کی اور ایک مخصوص ہاؤسنگ لون سکیم متعارف کرانے یا موجودہ وفاقی حکومت کے ہاؤسنگ فنانس کے اقدامات کے تحت صحافیوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) نے بھی کمیٹی کو علاقائی اخبارات کے اشتہاری کوٹے کے بارے میں بریفنگ دی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ پالیسی کے تحت سرکاری اشتہارات کا 25 فیصد حصہ علاقائی اخبارات کے لیے مخصوص ہے۔ تاہم، اراکین نے اس پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات کا نوٹس لیا، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان سے۔ قائم مقام چیئرمین نے پی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ وہ 25 فیصد کوٹے کی سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے، جس میں عوامی سطح پر معلومات کی ترسیل میں ان کے اہم کردار کے اعتراف میں لسانی اخبارات بھی شامل ہوں۔

کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو درپیش مسائل پر بھی مزید تبادلہ خیال کیا۔ یہ بتایا گیا کہ 353 کمیوٹیشن کیسز تحال زیر التوا ہیں اور ریڈیو پاکستان وفاقی حکومت کے گران্ট-اِن-ایڈ کے ذریعے چل رہا ہے۔ حکام نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم پہلے ہی ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی اور اے پی پی سے متعلقہ بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔ قائم مقام چیئرمین نے ہدایت کی کہ ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مطالبات بھی وزیراعظم کی کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں اور اس معاملے کے جلد از جلد حل کا مطالبہ کیا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی