کراچی، صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
کراچی:
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں انسداد دہشت گردی عدالتوں کو نارکوٹکس عدالتوں میں تبدیل کرنے، جناح اسپتال کے نئے ایمرجنسی ٹاور کےلیے 15ملین ڈالر منظوری اور سندھ چیریٹی کمیشن کے قیام سمیت اہم فیصلے کیے گئے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں محکمہ داخلہ کی تجویز کی منظوری دی کہ 14 انسداد دہشت گردی عدالتیں (اے ٹی سیز) سندھ کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹنس (سی این ایس) ایکٹ 2024 کے تحت 'اسپیشل عدالتیں' کے طور پر دوبارہ نامزد کی جائیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ میں 33 انسداد دہشت گردی عدالتیں ہیں جن میں سے 20 کراچی اور 13 دیگر اضلاع میں ہیں، کراچی کی بعض عدالتوں میں مقدمات کی کم تعداد دیکھتے ہوئے محکمہ داخلہ نے تجویز دی کہ کراچی میں 13 اور حیدرآباد میں ایک انسداد دہشت گردی عدالت کو ختم کر کے اسپیشل عدالتوں میں تبدیل کیا جائے تاکہ منشیات سے متعلق مقدمات کی تیز رفتار کارروائی ممکن ہو سکے۔
اس دوبارہ نامزدگی کے بعد اسپیشل عدالتیں کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، شہید بینظیر آباد، سکھر اور لاڑکانہ ڈویژنز میں قائم ہوں گی، سندھ کی باقی انسداد دہشت گردی عدالتوں کو زیر التوا مقدمات کے مؤثر انتظام کے لیے دوبارہ منظم کیا جائے گا۔
اس حوالے سے بتایا گیا کہ یہ تجویز انسداد دہشت گردی (سندھ ترمیمی) ایکٹ 2025 کے سیکشن 13 کے مطابق ہے، جو صوبائی حکومت کو عدالتوں کی تعداد بڑھانے، گھٹانے یا ختم کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
صوبائی کابینہ نے کراچی کے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) میں نئے 12 منزلہ ایمرجنسی ٹاور کے لیے سامان اور سہولیات کی فراہمی کے لیے مجوزہ 15 ملین امریکی ڈالر (یا اس کے مساوی پاکستانی روپے) کی گرانٹ کی منظوری دے دی، یہ گرانٹ پیشنٹ ایڈ فاؤنڈیشن (پی اے ایف) کو فراہم کی جائے گی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ متوقع ایمرجنسی ٹاور کی مجموعی لاگت 35 ملین امریکی ڈالر ہے، پی اے ایف جے پی ایم سی ڈونرز کے ایک کنسورشیم نے پہلے ہی تعمیراتی کام کے لیے 20 ملین امریکی ڈالر کا وعدہ کیا ہے جبکہ باقی 15 ملین امریکی ڈالر سامان اور سہولیات کے لیے حکومت سندھ سے طلب کیے گئے ہیں۔
مذکورہ 15 ملین ڈالر کی گرانٹ دو مساوی قسطوں میں ہر قسط ($7.
وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ نئے ایمرجنسی ٹاور میں 722 بیڈز اور 17 آپریٹنگ تھیٹرز ہوں گے، جو موجودہ ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ کے 224 بیڈز اور تین آپریٹنگ تھیٹرز کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے، اس توسیع سے مریضوں کی سہولت میں اضافہ، ایمرجنسی خدمات کی بہتری اور کم آمدنی والے مریضوں کے لیے مالی ریلیف متوقع ہے۔
پی اے ایف نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت جے پی ایم سی کی گنجائش پہلے ہی 1,100 سے بڑھا کر 2,208 بیڈز کر دی ہے، دو اہم عمارتوں، 12 منزلہ سردار یاسین ملک میڈیکل کمپلیکس اور 7 منزلہ آفیسرز وارڈ ربیہ رشید سُورتی بلڈنگ کی تکمیل کے بعد 2026 کے آخر تک جے پی ایم سی کی گنجائش مزید بڑھ کر 2,584 بیڈز تک پہنچنے کی توقع ہے۔
کابینہ نے سکھر آئی بی اے ٹیسٹنگ سروسز (ایس ٹی ایس) کے تحت بی ایس-5 سے بی ایس-15 کے لیے عام اسکریننگ ٹیسٹ کے نتائج کی مدت میں توسیع پر غور کیا۔
گریجویشن کیٹگری کے تحریری ٹیسٹ جنوری 2023 میں اور انٹرمیڈیٹ کیٹگری کے جون 2023 میں ہوئے تھے جن کی تین سالہ مدت پہلے کابینہ کی منظوری سے طے کی گئی تھی تاہم ہائی کورٹ کی رٹ، 2024 کے عام انتخابات اور بھرتیوں پر عائد پابندی کی وجہ سے تقرریاں ممکن نہ ہو سکیں۔
نتائج کے 2026 میں ختم ہونے سے بچانے اور امیدواروں کی اہلیت برقرار رکھنے کے لیے کابینہ نے مدت کو جون 2028 تک بڑھانے کی منظوری دی۔
سندھ کابینہ نے سندھ چیریٹی کمیشن کے قیام کی منظوری دی جو سندھ چیریٹی کمیشن ایکٹ 2019 کے تحت قائم ہوگا، یہ قانون صوبے میں کام کرنے والی تمام خیراتی تنظیموں، این جی اوز اور این پی اوز کے اندراج، نگرانی اور ضابطہ کاری کے لیے بنائے گئے ہے۔
کمیشن کا مقصد خیراتی فنڈز کے شفاف، قابل جوابدہ اور مناسب استعمال یقینی بنانا ہے، جس کے لیے لازمی اندراج، مالی نگرانی اور سالانہ رپورٹنگ کی جائے گی۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ کابینہ نے کمیشن کے اراکین کی تشکیل کا جائزہ لیا جس میں وزیر برائے سماجی بہبود بطور چئیرپرسن شامل ہیں، اسپیکر کی جانب سے نامزد دو اراکین صوبائی اسمبلی اور سماجی بہبود، خزانہ، صحت، ہوم، اسکول ایجوکیشن، خواتین کی ترقی اور معذور افراد کے بااختیار بنانے کے محکموں کے سیکریٹری بطور رکن شامل ہیں جبکہ پانچ غیر سرکاری اراکین حکومت کی جانب سے نوٹیفائی کیے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملین امریکی ڈالر ایمرجنسی ٹاور بتایا گیا کہ جے پی ایم سی اجلاس میں کی منظوری کابینہ نے کے تحت کے لیے
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔