ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے لیے 33 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) نے پاکستان کے قومی بجلی ترسیلی نظام کو بہتر بنانے کے لیے 33 کروڑ ڈالر کا قرض منظور کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 500 کے وی کی 290 کلومیٹر طویل نئی ٹرانسمیشن لائن بچھائی جائے گی اور اسلام آباد و فیصل آباد کے اہم گرڈ اسٹیشنز کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ جاری، پاکستان کی معیشت کے بارے میں کیا پیشگوئی کی گئی ہے؟
منصوبے سے ملک کو 3200 میگاواٹ تک سستی بجلی کی ترسیل میں مدد ملے گی، جس کے نتیجے میں درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا اور توانائی کے شعبے میں استحکام آئے گا۔
بینک کی فنانسنگ میں 285 ملین ڈالر کا OCR قرض اور 45 ملین ڈالر کا رعایتی قرض شامل ہے۔ نئی لائن کے باعث لائن لاسز میں کمی اور گرڈ کی بھروسے مندی میں اضافہ متوقع ہے۔
مزید پڑھیں: ایشیائی ترقیاتی بینک سیلاب متاثرین کے لیے 30 لاکھ ڈالر کی ہنگامی امداد دے گا
ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان کی نیشنل پاور پالیسی 2021 اور ویژن 2025 کے مطابق توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور مالیاتی استحکام کو بھی مضبوط کرے گا، جبکہ سستی بجلی کے بہتر انضمام سے اوسط لاگت میں کمی کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایشیائی ترقیاتی بینک کے لیے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔