بروقت انصاف آئینی ذمہ داری و اخلاقی فریِضہ ہے: چیف جسٹس پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
اسلام آباد: (نیوزڈیسک) چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ بروقت انصاف آئینی ذمہ داری اور اخلاقی فریضہ ہے۔
چیف جسٹس پاکستان کی زیر صدارت عدالتی اصلاحات پر آٹھواں انٹرایکٹو سیشن منعقد ہوا جس میں جسٹس محمد علی مظہر، رجسٹرار سپریم کورٹ سمیت دیگر نے شرکت کی۔
اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ ریفارم ایکشن پلان کی 86 میں سے 36 اصلاحات مکمل، 45 پر کام جاری ہے، کیس کیٹیگرائزیشن اور ریکارڈ ڈیجیٹائزیشن میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔
1 لاکھ 26 ہزار ریکارڈز ڈیجیٹائز، مزید کام مقررہ مدت میں مکمل ہوگا، ای کورٹس کے لئے وزارت آئی ٹی اور ڈیجیٹل اتھارٹی سے اشتراک کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں عدالتوں کی مکمل ڈیجیٹائزیشن کے ماسٹر پلان پر بریفنگ دی گئی۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ شفافیت اور مالی نظم و ضبط عدلیہ کی مضبوطی کے لئے لازم ہے، بروقت انصاف آئینی ذمہ داری اور اخلاقی فریضہ ہے، چیف جسٹس نے تمام محکموں کو زیر التوا کام تیز رفتاری سے مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چیف جسٹس
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔