اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے "انروا" کے مینڈیٹ کی تجدید کر دی
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
اجلاس کے دوران اسمبلی کی کمیٹی نے فلسطینی پناہ گزینوں کو امداد سے متعلق ایک قرارداد منظور کر لی، جس میں 149 نے حمایت میں، 10 نے مخالفت اور 13 نے غیر جانبداری کا ووٹ ڈالا۔ اس فیصلے کے ذریعے انروا کے مینڈیٹ میں 30 جون 2029ء تک توسیع کر دی گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بڑی اکثریت سے اقوامِ متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (UNRWA) کا مینڈیٹ تجدید کر دیا ہے، جس سے مقبوضہ علاقوں اور خطے میں گہرے عدم استحکام کے درمیان لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کی حمایت میں اس کے مرکزی کردار اجاگر ہوا ہے۔ فلسطینی خبر رساں ایجنسی "وفا" کے مطابق بدھ کو نیویارک میں اجلاس کے دوران اسمبلی کی کمیٹی نے فلسطینی پناہ گزینوں کو امداد سے متعلق ایک قرارداد منظور کر لی، جس میں 149 نے حمایت میں، 10 نے مخالفت اور 13 نے غیر جانبداری کا ووٹ ڈالا۔ اس فیصلے کے ذریعے انروا کے مینڈیٹ میں 30 جون 2029ء تک توسیع کر دی گئی ہے۔ قرارداد میں اس افسوس کا اظہار کیا گیا کہ فلسطینی پناہ گزین اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹ سکے یا معاوضہ حاصل نہیں کر سکے اور خبردار کیا کہ ان کی انسانی حالت ابھی بھی تشویشناک ہے۔ اس میں یہ اعادہ کیا گیا ہے کہ جب تک پناہ گزینوں کے مسئلے کا منصفانہ اور پائیدار حل نہیں نکلتا، انروا کے آپریشنز ناگزیر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فلسطینی پناہ پناہ گزینوں
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔