وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس امین الدین خان نے عہدے کا حلف اٹھا لیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس امین الدین خان نے عہدے کا حلف اٹھا لیا WhatsAppFacebookTwitter 0 14 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: (آئی پی ایس) وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس امین الدین خان نے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔
تفصیلات کے مطابق ایوان صدر اسلام آباد میں ہونے والی حلف برداری تقریب میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس امین الدین خان سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، پاک فضائیہ اور بحریہ کے سربراہان اور دیگر اعلیٰ حکام تقریب میں شریک ہوئے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس محمد یحییٰ آفریدی، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری سمیت وفاقی وزراء اور ارکان پارلیمنٹ بھی حلف برداری تقریب میں موجود تھے۔
گزشتہ روز وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے جسٹس امین الدین خان کی تقرری کی منظوری دی تھی ، وزارت قانون و انصاف نے ان کی تقرری کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل جسٹس امین الدین خان آئینی بنچ کے سربراہ تھے، انہوں نے 30 نومبر کو عہدہ سے ریٹائر ہونا تھا۔
دوسری جانب 27 ویں آئینی ترمیم منظور ہونے کے بعد آئینی عدالت کے 6 ججز اسلام آباد ہائیکورٹ میں حلف اٹھائیں گے۔
آئینی عدالت کے 6 ججز کی تقریب حلف برداری کیلئے انتظامات مکمل کر لئے گئے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز اور ایڈمن بلاک کے درمیان اوپن ایریا میں انتظامات کئے گئے ہیں، وفاقی آئینی عدالت کے سربراہ جسٹس امین الدین دیگر ججز سے حلف لیں گے۔
ممکنہ ججز میں جسٹس عامر فاروق، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس کے کے آغا شامل ہیں، جسٹس روزی خان، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس علی باقر نجفی بھی ممکنہ ججز میں شامل ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروفاقی آئینی عدالت کے ججز کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ، صدارتی آرڈر جاری پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2025 سینیٹ سے کثرت رائے سے منظور وفاقی کابینہ نے گوادر عمان فیری سروس کی منظوری دےدی آئینی عدالت کے ججز کی تقریب حلف برداری کیلئے تیاریاں مکمل قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد آرمی ایکٹ ترمیمی بل آج سینیٹ میں پیش کیا جائے گا سپریم کورٹ کے ججوں کے استعفے کا تحریک انصاف کا خیر مقدم،حکومت پر شدید تنقید نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کا دورہ بنگلہ دیش، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاقCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عہدے کا حلف
پڑھیں:
بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین آج بروز جمعہ کو اپنی آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی مستعفی ہو جائیں گے۔ ان کے استعفے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے عدالت سے سزا ملنے کے باوجود دسمبر میں وطن واپس آ کر خود کو قانون کے حوالے کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین جمعہ کو اپنی 5 سالہ آئینی مدت مکمل ہونے سے قبل ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ ان کے ترجمان نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صدر اپنا تحریری استعفیٰ پارلیمنٹ کے اسپیکر کو پیش کریں گے، جس کے بعد وہ فوری طور پر مؤثر ہو جائے گا۔
صدر کے استعفے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معزول وزیراعظم شیخ حسینہ نے جلاوطنی ختم کرکے رواں سال دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے اور عدالت کے سامنے خود کو پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
محمد شہاب الدین کو شیخ حسینہ کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد شیخ حسینہ کے پاس ریاست کے اعلیٰ ترین عہدوں پر کوئی اہم سیاسی اتحادی باقی نہیں رہے گا۔
شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے بعد پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس تحریک کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا، جبکہ جماعت کے متعدد رہنما اور کارکن یا تو گرفتار ہو چکے ہیں یا روپوش ہیں۔
استعفے کی وجہ کیا ہے؟صدر کے ترجمان نے استعفے کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی، تاہم معاملے سے باخبر 3 ذرائع کے مطابق 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد کی طرف سے صدر سے مستعفی ہونے کے مطالبے کے بعد حکومت نے محمد شہاب الدین پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔
آئینی طریقہ کارصدر کے پریس سیکریٹری سروار عالم کے مطابق آئین کے تحت صدر کا استعفیٰ اسپیکر کو دستخط شدہ خط موصول ہونے کے بعد مؤثر ہو جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسپیکر حافظ الدین احمد کے تھائی لینڈ سے وطن واپس پہنچتے ہی صدر استعفیٰ پیش کریں گے۔
آئین کے مطابق صدر کے مستعفی ہونے کے بعد نئے صدر کے انتخاب تک پارلیمنٹ کے اسپیکر قائم مقام صدر کے فرائض انجام دیں گے۔
شیخ حسینہ کی واپسی سے سیاسی کشیدگیشیخ حسینہ نے حال ہی میں رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اور عوامی لیگ کی سینئر قیادت دسمبر کے آس پاس وطن واپس آ کر عدالت کے سامنے خود کو پیش کریں گے۔
گزشتہ نومبر میں بنگلہ دیش کے وار کرائمز ٹریبونل نے 2024 کی عوامی تحریک کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے مقدمے میں شیخ حسینہ کو غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس کارروائی میں تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے تھے، تاہم شیخ حسینہ نے جلاوطنی کے دوران ان تمام الزامات کو مسترد کر رکھا ہے۔
موجودہ حکومت پر دباؤشیخ حسینہ کی بھارت سے ممکنہ واپسی کی خبروں کے بعد وزیراعظم طارق رحمان کی حکومت پر عوامی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم کے باقی ماندہ بااثر اتحادیوں کو بھی اہم سرکاری عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔
اگرچہ بنگلہ دیش میں صدر کا منصب زیادہ تر آئینی اور رسمی نوعیت کا ہے اور انتظامی اختیارات وزیراعظم اور کابینہ کے پاس ہوتے ہیں، تاہم اگست 2024 میں شیخ حسینہ کے نئی دہلی فرار ہونے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی خلا میں اس عہدے کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔
2023 میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے76 سالہ محمد شہاب الدین کو 2023 میں عوامی لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے بلا مقابلہ صدر منتخب کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے گزشتہ منگل کو وزیراعظم طارق رحمان کو اپنے استعفے کے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صدر کے استعفے اور شیخ حسینہ کی متوقع واپسی سے بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین