Juraat:
2026-06-03@02:05:57 GMT

سپریم کورٹ کے ججز منصور علی شاہ اور اطہر من اللہ مستعفی

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

سپریم کورٹ کے ججز منصور علی شاہ اور اطہر من اللہ مستعفی

میرا ضمیر صاف اور دل میں پچھتاوا نہیں ،27 ویں ترمیم کے ذریعہ سپریم کورٹ پر کاری ضرب لگائی گئی ، میں ایسی عدالت میں حلف کی پاسداری نہیں کر سکتا، جس کا آئینی کردار چھین لیا گیا ہو،جسٹس منصور
حلف کی پاسداری مجھے اپنے باضابطہ استعفے پر مجبور کرتی ہے کیونکہ وہ آئین جسے میں نے تحفظ اور دفاع کا حلف دیا تھا اب موجود نہیں رہا(جسٹس اطہر من اللہ)دونوں ججوںنے صدر مملکت کو استعفا بھجوادیا

سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے استعفیٰ دے دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے استعفیٰ دے دیا ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت آصف علی زرداری کو بھیج دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ میں نے ادارے کی عزت، ایمانداری اور دیانت کے ساتھ خدمت کی۔جسٹس منصور نے اپنے استعفیٰ میں مزید لکھا ہے کہ میرا ضمیر صاف ہے اور میرے دل میں کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ میں سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج کی حیثیت سے استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔انہوں نے 27 ویں آئینی ترمیم کو آئین پاکستان پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعہ سپریم کورٹ پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔ ترمیم سے انصاف عام آدمی سے دور اور کمزور طاقت کے سامنے بے بس ہو گیا ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے یہ بھی کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم سے ملک کی ماہر اعلیٰ ترین عدالت کو منقسم اور اس کی آزادی پامال کر کے ملک دہائیوں پیچھے دھکیل دیا گیا۔ میں ایسی عدالت میں حلف کی پاسداری نہیں کر سکتا، جس کا آئینی کردار چھین لیا گیا ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ہمیشہ ایک ہی سپریم کورٹ رہی اور یہ ہمارا مشترکہ ورثہ ہے۔ 27 ویں ترمیم نے اس ڈھانچے کو توڑ کر سپریم کورٹ کے اوپر آئینی عدالت قائم کر دی۔جسٹس منصور نے یہ بھی کہا کہ 27 ویں ترمیم کو بغیر مشاورت اور بحث یا عدلیہ کی رائے کے ایوان سے منظور کیا گیا۔ اس ترمیم کا واحد مقصد حکومت کو اپنی مرضی کے ججز لگانے کا اختیار دینا ہے۔سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج نے مزید کہا کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جہاں حکومت میں قانون کی حکمرانی کو مرکزی حیثیت حاصل ہو اور جہاں عدالتی آزادی کو مقدس امانت کی طرح محفوظ رکھا گیا ہو۔سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے استعفی میں لکھا کہ 11 سال قبل میں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج پھر اسی عدالت کے چیف جسٹس اور مزید 4 سال بعد سپریم کورٹ کے جج کے طور پر حلف اٹھایا، تو اس پورے عرصہ کے دوران جو بنیادی وعدہ میں نے کیا تھا وہ ایک ہی تھا۔ یہ کسی آئین کا نہیں، بلکہ آئینِ پاکستان کا حلف تھا۔جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے پہلے میں نے چیف جسٹس پاکستان کو خط لکھا کہ چیف جسٹس پاکستان کو خط میں مجوزہ شقوں پر اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا کہ یہ ہماری آئینی ساخت کیلیے کیا معنی رکھتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس خاموشی اور بے عملی کے اس ماحول میں میرے خدشات حقیقت بن چکے۔ اپنے حلف کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا سب سے بڑا اعزاز حاصل رہا ہے اور آج اسی حلف کی پاسداری مجھے اپنے باضابطہ استعفے پر مجبور کرتی ہے کیونکہ وہ آئین جسے میں نے تحفظ اور دفاع کا حلف دیا تھا اب موجود نہیں رہا۔جسٹس اطہر من اللہ نے یہ بھی کہا کہ میں اس جھوٹ کے ساتھ نہیں جی سکتا کہ اب جو نئی بنیادیں رکھی جا رہی ہیں وہ اسی آئین کی بقا پر کھڑی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ باقی رہ گیا ہے، وہ صرف ایک سایہ ہے۔ اب آئین میں نہ اس کی روح ہے اور نہ ہی وہ عوام کی آواز جس کے لیے یہ آئین وجود میں آیا تھا۔جسٹس اطہر من اللہ نے یہ بھی کہا کہ آئندہ نسلوں نے مختلف نظر سے دیکھنا ہے تو پھر ہمارا مستقبل ماضی کی غلطیوں کی تکرار نہیں ہونا چاہیے۔ ان ہی امیدوں کے ساتھ آج میں یہ جبّہ ہمیشہ کے لیے اتار رہا ہوں اور سپریم کورٹ کے جج کے عہدے سے اپنا باضابطہ استعفیٰ فوری طور پر پیش کرتا ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: جسٹس اطہر من اللہ نے جسٹس منصور علی شاہ کے سینئر ترین جج سپریم کورٹ کے جج نے یہ بھی کہا کہ حلف کی پاسداری نے استعفی

پڑھیں:

شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان

ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور