نیوی کا لباس پہن کر جعلی میڈلز سجانے والا شخص، جس نے یادگاری تقریب میں ایڈمرل بن کر سب کو دھوکا دیا، بالآخر بے نقاب ہوگیا۔
64 سالہ جوناتھن ڈیوڈ کارلی نامی یہ شخص دراصل ایک ریٹائرڈ استاد ہے، جس نے اس سے پہلے بھی 2 یادگاری تقریبات میں خود کو اعلیٰ نیول افسر ظاہر کرکے شرکت کی۔

جعلی تعلیم اور تدریسی کیریئر کا دعویٰ

کارلی نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ آکسفورڈ اور ہارورڈ یونیورسٹی سے پڑھا ہوا ہے، اور بعد میں چیلتنم، ایٹن اور شِپلک کالج میں پڑھاتا رہا ہے۔
چیلتنم کالج نے تصدیق کی کہ وہ 1988 میں وہاں تاریخ اور سیاسیات کا استاد رہا، اور 1992 میں وہ 17,500 پاؤنڈ فیس لینے والے شِپلک کالج چلا گیا۔

جعلی میڈلز پہن کر تقریب میں شرکت

گزشتہ اتوار کو لیلنڈڈنو میں منعقدہ تقریب کے دوران وہ 12 میڈلز اور MBE لگا کر نیوی کا یونیفارم پہنے دکھائی دیا۔
ان جعلی اعزازات میں:

Distinguished Service Order (DSO) جو صرف انفرینٹری افسران کو ملتا ہے

Queen’s Voluntary Reserves Medal جو صرف ریزرو ملٹری اہلکاروں کو دیا جاتا ہے، بھی شامل تھے۔

آن لائن گروپ Walter Mitty Hunters Club نے تحقیقات کے بعد بتایا کہ فوجی ریکارڈ میں ایسا کوئی شخص نہیں جس نے وہ تمام میڈلز جیت رکھے ہوں جنہیں کارلی نے پہنا ہوا تھا۔

2 مزید تقریبات میں بھی جعلی افسر بن کر شامل ہوا

کارلی 2018 اور 2019 میں اپنے آبائی قصبے کارنارفن میں بھی اسی طرح کی یادگاری پریڈز میں جعلی نیول افسر کے طور پر شریک ہوا۔
تصاویر میں اسے سابق فوجیوں اور مقامی حکام کے ساتھ باقاعدہ نیول یونیفارم اور ceremonial sword کے ساتھ کھڑے دیکھا گیا۔

گھر پر سوال پوچھے جانے پر خاموشی

جب صحافی اس کے 7 لاکھ پاؤنڈ مالیت کے بڑے گھر پر پہنچے تو اس نے صرف یہی کہا:
’میں آپ سے بات نہیں کرنا چاہتا، احترام کے ساتھ۔‘

جعلی دعوے بے نقاب

اس کے حوالے سے لندن گزٹ میں آخری ریکارڈ 1991 میں ٹیریٹوریل آرمی کے کمبائنڈ کیڈٹس کے طور پر ملتا ہے۔
ایک اخباری انٹرویو میں وہ یہ دعویٰ بھی کرچکا تھا کہ وہ آکسفورڈ میں کشتی رانی  ٹیم کا کپتان تھا، اور بعد ازاں ہارورڈ یونیورسٹی میں کاروبار کی ڈگری حاصل کی۔

ایٹن کالج جہاں اس نے کوچنگ کا دعویٰ کیا تھا، برطانیہ کے انتہائی معزز تعلیمی اداروں میں سے ہے جہاں بورس جانسن، ڈیوڈ کیمرون اور شہزادہ ولیم و ہیری جیسے بڑے نام تعلیم پا چکے ہیں۔

لیلنڈڈنو کونسل کے مطابق اسے تقریب میں سرے سے بلایا ہی نہیں گیا تھا۔
جب اسے وہاں پوچھا گیا کہ وہ کس کی نمائندگی کر رہا ہے تو اس نے کہا کہ وہ لارڈ لیفٹیننٹ آف کلائیوڈ کی نمائندگی کر رہا ہے،
مگر لارڈ لیفٹیننٹ ہیری فیترسٹنہاؤ نے صاف کہا ’میں نے اسے زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف