نقلی میڈلز لگا کر یادگاری تقریب میں شریک جعلی ایڈمرل اصل میں کون تھا، کیسے بے نقاب ہوا؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
نیوی کا لباس پہن کر جعلی میڈلز سجانے والا شخص، جس نے یادگاری تقریب میں ایڈمرل بن کر سب کو دھوکا دیا، بالآخر بے نقاب ہوگیا۔
64 سالہ جوناتھن ڈیوڈ کارلی نامی یہ شخص دراصل ایک ریٹائرڈ استاد ہے، جس نے اس سے پہلے بھی 2 یادگاری تقریبات میں خود کو اعلیٰ نیول افسر ظاہر کرکے شرکت کی۔
کارلی نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ آکسفورڈ اور ہارورڈ یونیورسٹی سے پڑھا ہوا ہے، اور بعد میں چیلتنم، ایٹن اور شِپلک کالج میں پڑھاتا رہا ہے۔
چیلتنم کالج نے تصدیق کی کہ وہ 1988 میں وہاں تاریخ اور سیاسیات کا استاد رہا، اور 1992 میں وہ 17,500 پاؤنڈ فیس لینے والے شِپلک کالج چلا گیا۔
گزشتہ اتوار کو لیلنڈڈنو میں منعقدہ تقریب کے دوران وہ 12 میڈلز اور MBE لگا کر نیوی کا یونیفارم پہنے دکھائی دیا۔
ان جعلی اعزازات میں:
Distinguished Service Order (DSO) جو صرف انفرینٹری افسران کو ملتا ہے
Queen’s Voluntary Reserves Medal جو صرف ریزرو ملٹری اہلکاروں کو دیا جاتا ہے، بھی شامل تھے۔
آن لائن گروپ Walter Mitty Hunters Club نے تحقیقات کے بعد بتایا کہ فوجی ریکارڈ میں ایسا کوئی شخص نہیں جس نے وہ تمام میڈلز جیت رکھے ہوں جنہیں کارلی نے پہنا ہوا تھا۔
2 مزید تقریبات میں بھی جعلی افسر بن کر شامل ہواکارلی 2018 اور 2019 میں اپنے آبائی قصبے کارنارفن میں بھی اسی طرح کی یادگاری پریڈز میں جعلی نیول افسر کے طور پر شریک ہوا۔
تصاویر میں اسے سابق فوجیوں اور مقامی حکام کے ساتھ باقاعدہ نیول یونیفارم اور ceremonial sword کے ساتھ کھڑے دیکھا گیا۔
جب صحافی اس کے 7 لاکھ پاؤنڈ مالیت کے بڑے گھر پر پہنچے تو اس نے صرف یہی کہا:
’میں آپ سے بات نہیں کرنا چاہتا، احترام کے ساتھ۔‘
اس کے حوالے سے لندن گزٹ میں آخری ریکارڈ 1991 میں ٹیریٹوریل آرمی کے کمبائنڈ کیڈٹس کے طور پر ملتا ہے۔
ایک اخباری انٹرویو میں وہ یہ دعویٰ بھی کرچکا تھا کہ وہ آکسفورڈ میں کشتی رانی ٹیم کا کپتان تھا، اور بعد ازاں ہارورڈ یونیورسٹی میں کاروبار کی ڈگری حاصل کی۔
ایٹن کالج جہاں اس نے کوچنگ کا دعویٰ کیا تھا، برطانیہ کے انتہائی معزز تعلیمی اداروں میں سے ہے جہاں بورس جانسن، ڈیوڈ کیمرون اور شہزادہ ولیم و ہیری جیسے بڑے نام تعلیم پا چکے ہیں۔
لیلنڈڈنو کونسل کے مطابق اسے تقریب میں سرے سے بلایا ہی نہیں گیا تھا۔
جب اسے وہاں پوچھا گیا کہ وہ کس کی نمائندگی کر رہا ہے تو اس نے کہا کہ وہ لارڈ لیفٹیننٹ آف کلائیوڈ کی نمائندگی کر رہا ہے،
مگر لارڈ لیفٹیننٹ ہیری فیترسٹنہاؤ نے صاف کہا ’میں نے اسے زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔