City 42:
2026-06-03@02:38:32 GMT

کوہاٹ،کرک میں پولیس کی کارروائیوں میں 4 دہشتگرد ہلاک  

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

(  ویب ڈیسک )خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ اور  کرک میں پولیس نے کارروائیوں کے دوران 4 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔ 

کوہاٹ میں پولیس نے کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، یہ کارروائی کوہاٹ میں بازید خیل کے قریب کی گئی۔

 ڈی پی او کوہاٹ شہباز الہٰی کے مطابق تھانہ صدر کے ایس ایچ او ریاض اپنے دستے کے ساتھ معمول کے گشت پر تھے کہ دہشت گردوں نے ان کے دستے پر اچانک فائرنگ کر دی۔

افغان کرکٹر راشد خان کی دوسری اہلیہ کون؟ تصاویر سامنے آگئیں

   پولیس نے فوری طور پر بھرپور جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں تینوں دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، لاشوں کو  مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا، پولیس کا کہنا ہے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے بارے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔

 ادھر کرک کے علاقے میر کلام بانڈہ میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک دہشت گرد ہلاک ہوگیا۔

 ترجمان سی ٹی ڈی پولیس کے مطابق تحصیل بانڈہ داؤد شاہ کے علاقے میر کلام بانڈہ میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس نے کارروائی کی جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد مارا گیا۔

کراچی :ٹریفک نظام میں روبوٹک گاڑیاں سڑکوں پر لانے کا فیصلہ

 ترجمان سی ٹی ڈی پولیس نے بتایا کہ ہلاک دہشت گرد مختلف سنگین مقدمات میں نامزد تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت