data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے توانائی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے 33 کروڑ ڈالر کے نئے قرض کی منظوری دے دی ہے، جو ملکی ٹرانسمیشن نیٹ ورک کے دوسرے اسٹرینتھننگ پراجیکٹ کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

یہ منصوبہ حکومتِ پاکستان کی ترجیحی سرمایہ کاریوں میں شامل ہے، جس کا بنیادی مقصد قومی گرڈ کو مزید مستحکم بنانا، قابلِ تجدید اور سستی ہائیڈرو توانائی کو ملک کے بڑے لوڈ مراکز تک موثر انداز میں منتقل کرنا اور پاور سیکٹر کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ حکومتی و تکنیکی حلقوں کے مطابق یہ سرمایہ کاری مستقبل کے توانائی بحرانوں پر قابو پانے میں ایک اہم کردار ادا کرے گی۔

اے ڈی بی کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق منصوبے کے تحت 500 کے وی کی تقریباً 290 کلومیٹر طویل نئی ٹرانسمیشن لائن بچھائی جائے گی جب کہ اسلام آباد اور فیصل آباد کو بجلی فراہم کرنے والے اہم گرڈ انفراسٹرکچر کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے گا۔

اس اقدام سے نہ صرف شمالی علاقوں کے ہائیڈرو پاور پلانٹس سے پیدا ہونے والی بجلی کی ترسیل بہتر ہوگی بلکہ پاکستان کے شمال جنوب پاور کوریڈور میں موجود پرانی رکاوٹیں بھی دور ہوں گی۔

توقع ہے کہ اس اپ گریڈیشن کے بعد 3200 میگاواٹ تک صاف توانائی قومی گرڈ میں شامل کی جا سکے گی، جس سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا اور توانائی کے شعبے میں پائیداری میں اضافہ ہوگا۔

اس منصوبے پر عمل درآمد نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان کرے گی، جو پہلے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے نام سے جانی جاتی تھی۔ منصوبہ ادارے کی مالیاتی، تکنیکی، عملی اور انتظامی صلاحیتوں میں بہتری لانے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

اے ڈی بی کی جانب سے منظور کیے گئے مالیاتی پیکج میں 285 ملین ڈالر کا کمرشل قرض اور 45 ملین ڈالر کا رعایتی قرض شامل ہے، جو نیشنل گرڈ کمپنی کو ٹرانسمیشن نیٹ ورک کے پھیلاؤ، مالی نظم و ضبط کی بہتری، ادارہ جاتی استحکام اور عوامی آگاہی کے اقدامات کو آگے بڑھانے میں مدد دے گا۔

اے ڈی بی کی پاکستان میں کنٹری ڈائریکٹر ایما فین کے مطابق یہ منصوبہ دونوں فریقوں کے مضبوط تعلقات کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسمیشن لائن کی صلاحیت میں اضافہ، کم لاگت ہائیڈرو بجلی کی ترسیل اور تکنیکی نقصانات میں کمی نہ صرف توانائی کے شعبے کا بھروسا بڑھائے گی بلکہ طویل مدتی معاشی ترقی کے لیے بھی اہم ثابت ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ ویژن 2025، نیشنل پاور پالیسی 2021 اور پاکستان کی نیشنل ڈیٹرمنڈ کنٹری بیوشنز کے اہداف سے مکمل مطابقت رکھتا ہے، جن میں سستی صاف بجلی، موسمیاتی لچک اور پائیدار ترقی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی