پاکستان اور یورپی یونین کا غیرقانونی ہجرت روکنے اور قانونی راستے فعال کرنے کیلئے معاونت کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
پاکستان اور یورپی یونین کا غیرقانونی ہجرت روکنے اور قانونی راستے فعال کرنے کیلئے معاونت کا اعادہ WhatsAppFacebookTwitter 0 20 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس ) پاکستان اور یورپی یونین نے غیرقانونی ہجرت روکنے اور قانونی راستے فعال کرنے کی حمایت اور معاونت کا اعادہ کیا اور یورا معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا۔دفترخارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے برسلز میں یورپی یونین کے کمشنر برائے امور داخلہ اور مائیگریشن میگنس برونر سے ملاقات کی اور اس دوران انہوں نے حال ہی میں منعقد ہونے والے پاکستان-ای یو مائیگریشن موبلٹی ڈائیلاگ کا خیرمقدم کیا۔
اسحاق ڈار نے یورپی یونین میں ہنر مند لیبر کی قانونی نقل مکانی آسان بنانے اور ان کو منظم کرنے کے لیے “ڈائیلاگ فریم ورک” کی افادیت پر روشنی ڈالی۔اعلامیے کے مطابق دونوں فریقوں نے نقل مکانی اور مزدوروں کی نقل و حرکت سے متعلق امور پر دو طرفہ تعاون کی بڑھتی ہوئی سطح کو سراہا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان “یورا معاہدے” پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے پر عزم ہے اور یورپی یونین کے کمشنر برنر نے غیر قانونی ہجرت کو روکنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔
دونوں اطراف نے “پاکستان-یورپی یونین ٹیلنٹ پارٹنرشپ روڈ میپ” کے ذریعے غیر قانونی ہجرت روکنے اور قانونی راستے فعال کرنے کی حمایت اور معاونت کا اعادہ کیا۔ نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ اور یورپی یونین، بیلجیئم اور لکسمبرگ کے لیے پاکستان کے سفیر رحیم حیات قریشی بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت کے خلاف جنگ میں فیلڈ مارشل نے میری مشاورت سے فیصلے کیے، وزیر اعظم بھارت کے خلاف جنگ میں فیلڈ مارشل نے میری مشاورت سے فیصلے کیے، وزیر اعظم چیئر مین سی ڈی اے سے جڑوں شہروں کے ممبران اسمبلی کی ملاقات،ترقیاتی کاموں پر گفتگو پاک بھارت جنگ: بھارتی حکومت کی امریکی کانگریس رپورٹ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنیکی کوشش ناکام کالعدم ٹی ٹی پی نے افغان سرزمین کو استعمال کر کے پاکستان میں متعدد حملے کیے: ڈنمارک پاکستان میں کرپشن مستقل چیلنج، سیاسی و معاشی اشرافیہ جیبیں بھر رہی ہے: آئی ایم ایف اسلام آباد ماڈل کالج فار گرلز ایف سکس ٹو کے ساتویں کانووکیشن کا انعقاد، 153 ڈگریاں، 5 گولڈ میڈلز، 16 شیلڈز اور 30 رول...
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: معاونت کا اعادہ اور یورپی یونین اسحاق ڈار کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی