جی ایس پی پلس جائزے سے قبل پاکستان کو ’مزید اقدامات‘ کرنے کی ضرورت ہے، سفیر یورپی یونین
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
یورپی یونین کے سفیر ریمونڈاس کاروبلس نے کہا ہے کہ پاکستان کو جی ایس پی پلس ترجیحی ٹیرف اسکیم کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ اس پر جلد ہی نظرثانی ہونے والی ہے۔
نجی اخبار میں شائع خبر کے مطابق ڈان نیوز ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب سفیر کاروبلس سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان کو اسکیم کی شرائط پوری کرنے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں، ہم یہی کہہ رہے ہیں کہ اس پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دورہ ایک معمول کی مانیٹرنگ مشن کا حصہ ہوگا، جو اقوام متحدہ کے تمام ضروری کنونشنز پر عمل درآمد کا جائزہ لے گا، اور اس دوران نہ صرف ریاستی اداروں بلکہ سول سوسائٹی تنظیموں، انسانی حقوق کے محافظوں، کمپنیوں اور مزدوروں سے بھی کافی تعداد میں ملاقاتیں ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ بعد ازاں ایک رپورٹ جاری کی جائے گی، جس میں اقوام متحدہ کے ان اداروں کی سفارشات شامل ہوں گی جو ان کنونشنز پر عمل درآمد کی نگرانی کرتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ عمل درآمد ’انتہائی اہم‘ ہے، یورپی یونین نے 2014 میں پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ دیا تھا، جس کے نتیجے میں رعایتی ٹیرف کے ذریعے پاکستان کی یورپی یونین کو ٹیکسٹائل برآمدات میں 108 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
اکتوبر 2023 میں، یورپی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر اس اسکیم کو 2027 تک بڑھانے کے حق میں ووٹ دیا تھا، جس سے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کو زیادہ تر برآمدات پر ڈیوٹی فری یا کم ڈیوٹی تک رسائی برقرار رکھنے کی اجازت ملی تھی۔
ایران-اسرائیل تنازع کے باعث جون سے التوا کا شکار جی ایس پی پلس مانیٹرنگ مشن اب پاکستان میں انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیات اور اچھی حکمرانی سے متعلق 27 بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد کی جانچ کرے گا، جن پر اس تجارتی اسکیم کی بنیاد ہے۔
تشویش کے شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے، سفیر نے انسانی حقوق، سزائے موت، توہینِ مذہب کے قوانین، جبری گمشدگیوں، اقلیتوں کے حقوق، خواتین کے حقوق، چائلڈ لیبر اور جبری مشقت جیسے معاملات کی نشاندہی کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ غالباً موجودہ جی ایس پی پلس اسکیم کا آخری مانیٹرنگ مشن ہوگا، کیوں کہ نئی اسکیم جلد، ممکنہ طور پر 2027 سے نافذ ہونے والی ہے، اور اگر پاکستان جی ایس پی پلس سہولت جاری رکھنا چاہتا ہے تو اسے دوبارہ درخواست دینا ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ مانیٹرنگ مشن کی رپورٹ اقوام متحدہ کے حوالے سے پاکستان کی پیش رفت اور اس کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے انتہائی اہم ماخذ ہوگی۔
کاروبلس نے کہا کہ یورپی یونین نے پہلے ہی وہ اہم امور شناخت کر لیے ہیں، جن پر وہ پاکستان سے پیش رفت چاہتی ہے، اگرچہ یورپی یونین ’کچھ مثبت پیش رفت‘ بھی دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ یورپی یونین کی ’ترجیحات‘ میں شامل ہے، ہمارے سوالات موجود ہیں اور ہمیں جی ایس پی پلس کے تناظر میں اس سلسلے میں مسائل نظر آتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یقیناً ہم سمجھتے ہیں کہ جبری گمشدگیوں پر اکوائری کمیشن کی طرح کچھ ڈھانچے قائم کیے گئے ہیں، لیکن ہم دیکھیں گے کہ آیا یہ کافی ہیں یا نہیں، یقیناً ہمیں اداروں سے اس بارے میں بہت سے سوالات ہوں گے۔
حالیہ منظور شدہ 27ویں آئینی ترمیم کے بارے میں پوچھے جانے پر سفیر نے اسے ’اندرونی معاملہ‘ قرار دیا، لیکن عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے کہا کہ ’ہماری مختلف رائے ہے‘۔
انہوں نے بتایا کہ یورپی یونین پاکستان میں اپوزیشن، تھنک ٹینکس، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی اداروں سے بھی رائے لے رہی ہے، انہوں نے حالیہ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات پر بھی گفتگو کی ضرورت پر زور دیا۔
اگست میں انسانی حقوق کی بگڑتی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے سابق یورپی یونین سفیر رینا کینکا نے پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ انسانی حقوق اور محنت سے متعلق اصلاحات میں ’قابلِ یقین‘ اور ’واضح‘ پیش رفت دکھائے، اور یہ اشارہ دیا تھا کہ یورپی یونین کی نئی تجارتی اسکیم سخت تر تقاضے رکھے گی۔
انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کو مزید واضح پیش رفت دکھانے کی ضرورت ہے، خصوصاً نومبر میں ہونے والے جی ایس پی پلس مانیٹرنگ مشن سے پہلے۔‘‘
اسی طرح، جنوری میں یورپی یونین نے پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنے جی ایس پی درجے کو یقینی نہ سمجھے۔
یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی برائے انسانی حقوق اولوِف اسکوگ نے حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ عام شہریوں کے خلاف مقدمات چلانے کے لیے فوجی عدالتوں کا استعمال نہ کرے اور اظہارِ آزادی کو محدود کرنے کے حالیہ اقدامات کی مخالفت کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ مانیٹرنگ مشن جی ایس پی پلس یورپی یونین پاکستان کو پیش رفت زور دیا دیا تھا تھا کہ کے لیے
پڑھیں:
امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.
U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.
Command centers.
Drone storage.
Communication networks.
Coastal surveillance.
Maritime capabilities.
AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6
— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔
???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT
The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.
CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE
— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ