مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیزی مکروہ اقدام ہے، اس سے نمٹنا ہوگا، برطانوی وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برطانیہ کے وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے نفرت انگیز رویوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ ہاؤس آف کامنز میں خطاب کے دوران انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ایسے رویے نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہیں بلکہ ایک مہذب معاشرے میں ان کی کوئی گنجائش نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت ملک میں بڑھتی اسلاموفوبیا اور نسلی امتیاز کی لہر کا مقابلہ کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ان کے مطابق مسلمانوں کے خلاف نفرت، دھمکی یا تعصب پر مبنی کسی بھی عمل کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمتِ عملی اختیار کی جا رہی ہے۔
وزیر اعظم نے یہ بھی اعلان کیا کہ مساجد اور مسلم اسکولوں کی سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے اضافی فنڈنگ فراہم کی جا رہی ہے تاکہ عبادت گاہوں اور تعلیمی اداروں کو تحفظ دیا جاسکے، نفرت انگیز سرگرمیوں کی نگرانی کی جاسکے اور متاثرہ افراد کی مدد کو مؤثر بنایا جاسکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ برطانیہ ایک ایسا معاشرہ بنانا چاہتا ہے جہاں ہر مذہب اور ہر کمیونٹی کے افراد کو برابری اور احترام میسر ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔