پاکستان اور سعودی عرب میں اہم پیشرفت: روہنگیا مسلمانوں کا دیرینہ قانونی مسئلہ حل
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
اسلام آباد میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان روہنگیا مسلمانوں کی قانونی حیثیت کا برسوں پرانا مسئلہ آخرکار حل ہوگیا ہے۔ دونوں ممالک نے اس پیشرفت کو دوطرفہ تعاون کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔
اس سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے ملاقات کی، جس میں پاک سعودی تعلقات، سیکیورٹی تعاون اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران سعودی سفیر نے اسلام آباد میں دہشتگرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔
فریقین نے اس بات پر اطمینان ظاہر کیا کہ سعودی عرب میں مقیم برما کے روہنگیا مسلمانوں کی قانونی حیثیت کا مسئلہ بالآخر حل کرلیا گیا ہے۔
سعودی سفیر نے اس معاملے کے حل میں پاکستان کی مثبت کوششوں کو سراہتے ہوئے حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
ذرائع کے مطابق اس اہم پیشرفت کو باضابطہ شکل دینے کے لیے اگلے ہفتے سعودی عرب میں معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے۔ ملاقات میں دونوں ممالک کی وزارتِ داخلہ کے درمیان تعاون بڑھانے کے مختلف پہلوؤں پر بھی بات ہوئی۔
سعودی سفیر نواف المالکی نے کہا کہ انہیں پاکستانی عوام کے ساتھ اپنے ملک کے گہرے تعلقات پر فخر ہے اور مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔