کھانا پھر کھا کر پچھتانا، کن بیماریوں کی علامت ہوسکتی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
ایک نئی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ اینوریکسیا، بلیمیا اور بنج ایٹنگ جیسی کھانے کی بے ترتیبیاں نہ صرف فوری طور پر بلکہ برسوں بعد بھی جسمانی اور ذہنی صحت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ اس مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ ان عادات کے شکار افراد میں گردے اور جگر کی ناکامی، ہڈیوں کے مسائل، ذیابیطس اور قبل از وقت موت جیسے خطرات نمایاں حد تک بڑھ جاتے ہیں۔
اینوریکسیایہ ایک ذہنی بیماری ہے جس میں مریض کو وزن بڑھنے کا شدید خوف ہوتا ہے۔
وہ بہت کم کھانا کھاتا ہے، خود کو غیر ضروری طور پر موٹا سمجھتا ہے، حالانکہ وزن بہت کم ہو چکا ہوتا ہے۔
جسم خطرناک حد تک کمزور ہو جاتا ہے۔
بُلیمیااس بیماری میں مریض بہت زیادہ کھانا کھاتا ہے اور پھر فوراً الٹی کر کے، یا ورزش، یا دوائیوں کے ذریعے کھایا ہوا کھانا جسم سے نکال دیتا ہے تاکہ وزن نہ بڑھے۔
اسے ’بنج اینڈ پرج سائیکل‘ کہتے ہیں۔
بنج ایٹنگ ڈس آرڈراس میں مریض بار بار بہت زیادہ کھانا کھاتا ہے، کھاتے وقت خود پر قابو نہیں رہتا۔
مگر بلیمیا کے برعکس کھانے کے بعد قے یا سخت ورزش جیسے اقدامات نہیں کرتا۔
کھانے کے بعد شدید شرمندگی اور افسوس محسوس ہوتا ہے۔
تحقیق کے نتائجمحققین نے انگلینڈ میں 10 سے 44 سال کی عمر کے 24 ہزار700 افراد کے طبی ریکارڈ کا جائزہ لیا اور انہیں 4 لاکھ 93 ہزار ایسے لوگوں سے موازنہ کیا جنہیں یہ بے ترتیبیاں لاحق نہیں تھیں۔
انہوں نے پایا کہ تشخیص کے پہلے 12 مہینوں کے دوران بے ترتیب کھانے میں مبتلا افراد میں گردے کی ناکامی کا امکان چھ گنا، اور جگر کی بیماری کا امکان تقریباً سات گنا بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح ہڈیوں کی کمزوری، دل کی ناکامی اور ذیابیطس جیسے امراض کا خطرہ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ذہنی نوعیت کے مسائل بھی شدید ہیں: ڈپریشن کی شرح سات گنا بڑھ جاتی ہے، خود اذیتی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور خودکشی کی کوشش کرنے کا خطرہ بھی کئی گنا زیادہ ہوتا ہے۔
موت کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے، ے ترتیب کھانے کے مریضوں میں پہلے سال میں کسی بھی سبب سے قبل از وقت موت کا خطرہ چار گنا سے زیادہ اور غیر فطری وجوہات (جیسے خودکشی) کی وجہ سے موت کا امکان پانچ گنا زیادہ پایا گیا ہے۔
خطرات کا دیرپا اثرمحققین نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ خطرات وقت کے ساتھ کم تو ہو سکتے ہیں، مگر پوری طرح ختم نہیں ہوتے۔ پانچ سال بعد، گردے اور جگر کی بیماری کا امکان اب بھی تقریباً 2.
دس سال بعد بھی خودکشی کا خطرہ بلند رہتا ہے — اس عمر تک یہ امکان تقریباً تین گنا ہو جاتا ہے۔
مجموعی طور پر، قبل از وقت موت کا خطرہ بھی طویل عرصے تک معمول سے زیادہ رہتا ہے۔
طبی نگرانی اور مداخلت کی ضرورتمحققین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صرف تشخیص اور عارضی علاج کافی نہیں ہے: ایسے مریضوں کو طویل المدتی طبی نگرانی کی ضرورت ہے۔ انہیں ایک مربوط طبی نظام کی ضرورت ہے، جس میں ماہرینِ گردے (نیفرولوجی)، دل (کارڈیولوجی)، انڈوکرائنولوجی اور ذہنی صحت سب مل کر کام کریں۔
انہوں نے بلڈ پریشر، جگر کی کارکردگی اور دماغی علامات جیسی چیزوں پر چیک اپ کو مستقل بنیاد پر کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ مریض کی صحت کی مکمل تصویر سامنے رہے۔
علاوہ ازیں، محققین نے بنیادی طبی مراکز (پرائمری کیئر) کے رول کو اہم قرار دیا ہے، جہاں ڈاکٹر مریضوں کی نگرانی جاری رکھیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں ماہرین کے پاس ریفر کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کا امکان ہوتا ہے جاتا ہے کا خطرہ جگر کی موت کا
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔