اپنے ایک بیان میں امریکی سینیٹر کا کہنا تھا کہ جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو خیموں سمیت دیگر امدادی سامان کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ برنی سینڈرز نے واضح کیا کہ واشنگٹن کو فوری طور پر اسرائیل سے کہنا چاہیئے کہ غزہ کیلئے مکمل انسانی امداد کا راستہ کھولا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے غزہ میں تیزی سے بگڑتی انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سفارتی طاقت استعمال کرتے ہوئے اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ موسمِ سرما کی سختیوں کے دوران غزہ میں مکمل انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ سینٹرز نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک ملین سے زائد فلسطینی سرد موسم میں بغیر پناہ گاہ کے رہنے پر مجبور ہیں، جبکہ 92 فیصد گھروں کو اسرائیلی بمباری سے تباہ کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو خیموں سمیت دیگر امدادی سامان کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔

سینیٹر نے واضح کیا کہ واشنگٹن کو فوری طور پر اسرائیل سے کہنا چاہیئے کہ غزہ کے لیے مکمل انسانی امداد کا راستہ کھولا جائے۔ غزہ گورنمنٹ میڈیا آفس کے مطابق 15 لاکھ فلسطینی بے گھر ہوچکے ہیں اور سخت سردی میں انتہائی تباہ کن حالات سے دوچار ہیں، جبکہ بنیادی ضروریات کی شدید قلت برقرار ہے۔ اسرائیلی محاصرے کے باعث ادویات، خوراک اور بنیادی خدمات نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023ء سے اب تک اسرائیلی حملوں میں تقریباً 70 ہزار فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 71 ہزار زخمی ہوچکے ہیں، جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے شامل ہیں۔

غزہ حکام کا کہنا ہے کہ تباہ شدہ علاقوں میں کم از کم 3 لاکھ خیموں اور پری فیبریکیٹڈ یونٹس کی فوری ضرورت ہے، تاکہ بے گھر افراد کو بنیادی پناہ فراہم کی جا سکے۔ 10 اکتوبر کو ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل پر لازم تھا کہ وہ غزہ کے بارڈر کراسنگز کو دوبارہ کھولے اور خیموں، موبائل ہاؤسنگ یونٹس اور دیگر امدادی سامان کے داخلے کی اجازت دے، لیکن اب تک تل ابیب نے اس پر عمل نہیں کیا۔ سینیٹر سینڈرز نے کہا کہ اگر فوری قدم نہ اٹھایا گیا تو غزہ میں انسانی تباہی ناقابلِ تصور سطح تک پہنچ سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کرتے ہوئے

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان