امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کا ٹرمپ انتظامیہ سے غزہ میں ہنگامی انسانی امداد رسانی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں امریکی سینیٹر کا کہنا تھا کہ جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو خیموں سمیت دیگر امدادی سامان کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ برنی سینڈرز نے واضح کیا کہ واشنگٹن کو فوری طور پر اسرائیل سے کہنا چاہیئے کہ غزہ کیلئے مکمل انسانی امداد کا راستہ کھولا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے غزہ میں تیزی سے بگڑتی انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سفارتی طاقت استعمال کرتے ہوئے اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ موسمِ سرما کی سختیوں کے دوران غزہ میں مکمل انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ سینٹرز نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک ملین سے زائد فلسطینی سرد موسم میں بغیر پناہ گاہ کے رہنے پر مجبور ہیں، جبکہ 92 فیصد گھروں کو اسرائیلی بمباری سے تباہ کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو خیموں سمیت دیگر امدادی سامان کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔
سینیٹر نے واضح کیا کہ واشنگٹن کو فوری طور پر اسرائیل سے کہنا چاہیئے کہ غزہ کے لیے مکمل انسانی امداد کا راستہ کھولا جائے۔ غزہ گورنمنٹ میڈیا آفس کے مطابق 15 لاکھ فلسطینی بے گھر ہوچکے ہیں اور سخت سردی میں انتہائی تباہ کن حالات سے دوچار ہیں، جبکہ بنیادی ضروریات کی شدید قلت برقرار ہے۔ اسرائیلی محاصرے کے باعث ادویات، خوراک اور بنیادی خدمات نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023ء سے اب تک اسرائیلی حملوں میں تقریباً 70 ہزار فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 71 ہزار زخمی ہوچکے ہیں، جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے شامل ہیں۔
غزہ حکام کا کہنا ہے کہ تباہ شدہ علاقوں میں کم از کم 3 لاکھ خیموں اور پری فیبریکیٹڈ یونٹس کی فوری ضرورت ہے، تاکہ بے گھر افراد کو بنیادی پناہ فراہم کی جا سکے۔ 10 اکتوبر کو ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل پر لازم تھا کہ وہ غزہ کے بارڈر کراسنگز کو دوبارہ کھولے اور خیموں، موبائل ہاؤسنگ یونٹس اور دیگر امدادی سامان کے داخلے کی اجازت دے، لیکن اب تک تل ابیب نے اس پر عمل نہیں کیا۔ سینیٹر سینڈرز نے کہا کہ اگر فوری قدم نہ اٹھایا گیا تو غزہ میں انسانی تباہی ناقابلِ تصور سطح تک پہنچ سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کرتے ہوئے
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی