دبئی حادثے کے بعد بڑا جھٹکا: آرمینیا نے بھارتی طیارہ تیجس خریدنے سے انکار کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251127-01-17
یریوان (مانیٹرنگ ڈیسک )آرمینیا نے دبئی ائر شو میں بھارتی لڑاکا طیارے تیجس کے حادثے کے بعد ان طیاروں کی خریداری کا عمل روک دیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق آرمینیا اور بھارت کے درمیان 1.2 بلین ڈالر مالیت کے 12 تیجس جنگی طیاروں کی فروخت پر بات چیت جاری تھی۔ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا تو تیجس کی یہ پہلی بڑی برآمدی ڈیل ہوتی۔رپورٹس کے مطابق آرمینیا کی جانب سے خریداری معطل کیے جانے سے اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز کو بھی بھاری مالی نقصان کا سامنا ہوگا کیونکہ تیجس طیاروں میں استعمال ہونے والے اہم نظام اور ریڈار ٹیکنالوجی اسرائیل میں تیار کی جاتی ہے۔خیال رہے کہ 21 نومبر کو دبئی ائر شو کے دوران بھارتی جنگی طیارہ تیجس گر کر تباہ ہوگیا تھا، جس کے نتیجے میں پائلٹ بھی جان کی بازی ہار گیا تھا۔اس حادثے کے بعد آرمینیا نے حفاظتی خدشات کے باعث خریداری کا فیصلہ مؤخر کر دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا رمینیا
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔