26 نومبر کو بشریٰ بی بی نے شدید خطرات کے باوجود پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا، بہن مریم ریاض کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
سابق وزیر اعظم اور بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی خواہر نسبتی(سالی) مریم ریاض وٹو نے 26 نومبر کے واقعات کے سلسلے میں سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ عمران خان سے متعلق دعویٰ کیا ہے کہ وہ اپنے شوہر کی ہدایت پر طویل سفر کرکے اسلام آباد پہنچیں اور شدید خطرات کے باوجود پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا۔
مریم ریاض وٹو نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ بشریٰ عمران خان تقریباً 2 روز کے مسلسل سفر کے بعد دارالحکومت پہنچیں اور وہاں موجود کارکنوں کے ساتھ رہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ رات کے وقت انہیں 2 مرتبہ فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ دیگر رہنماؤں کی عدم موجودگی میں وہ کارکنوں کے درمیان موجود رہیں، تاہم بعد ازاں انہیں زبردستی وہاں سے ہٹا دیا گیا۔
مواصلاتی رابطے منقطع کرنے کا الزاممریم ریاض وٹو کے مطابق اس رات کے بعد ان کے خاندان کو کسی قسم کا پیغام موصول نہیں ہوا یا رابطہ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگلے روز بشریٰ عمران خان کی پریس کانفرنس سے متعلق خبروں کو ’ڈرامہ‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ اگر ان کی فون تک رسائی ہوتی تو وہ سب سے پہلے اپنے گھر والوں کو اطلاع دیتیں۔
26th November:
When a devoted wife risked her own life to stand by her husband — #BushraImranKhan
People can invent a thousand stories about her, craft countless conspiracies to pull her down or tarnish her name.
After… pic.twitter.com/8lrDI2Z1sv
— Maryam Riaz Wattoo (@soulful7867) November 26, 2025
’انہیں 2 روز تک کسی فون تک رسائی نہیں دی گئی تاکہ وہ اپنا پیغام عوام یا اہلِ خانہ تک نہ پہنچا سکیں۔‘
مریم ریاض نے اس صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ان افراد کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا جن پر الزام ہے کہ انہوں نے بشریٰ عمران خان کے ساتھ یہ ’کھلواڑ‘ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے افراد ’دنیا اور آخرت میں جوابدہ ہوں گے‘۔
26 نومبر کے جاں بحق افراد کو خراجِ عقیدتمریم ریاض وٹو نے 26 نومبر کو جاں بحق ہونے والے پرامن مظاہرین کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ’شہدائے پاکستان‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ ملکی مستقبل کے بہتر ہونے کی امید پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر گئے۔
انہوں نے کہا کہ جب ملک میں انصاف کی بالادستی بحال ہوگی، تو 26 نومبر کے واقعات کے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مریم ریاض وٹو
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔