سونے کی مارکیٹ غیر دستاویزی ،غیر شفاف قیمتوں کی شکار
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
سونے کے تاجروں کی بڑی تعداد غیر رجسٹرڈ، ٹیکس چوری کے لیے کیش ٹرانزیکشن
ملک میں 90فیصد سے زیادہ سونے کی تجارت غیر رسمی چینلز سے ہونے کا انکشاف
ملک میں 90 فیصد سیزیادہ سونے کی تجارت غیر رسمی چینلز سے ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔مسابقتی کمیشن نے سونے کی مارکیٹ پر ’’اسسمنٹ اسٹڈی‘‘ جاری کردی۔ رپورٹ کے مطابق 2024میں 17ملین ڈالر مالیت کا سونا درآمد کیا گیا۔ پاکستان میں سالانہ 60سے 90ٹن تک سونے کی کھپت ہوتی ہے ، پاکستان میں سونے کی مارکیٹ غیر دستاویزی اور غیر شفاف قیمتوں کا شکار ہے ۔رپورٹ کے مطابق سونے کے تاجروں کی بڑی تعداد غیر رجسٹرڈ، ٹیکس چوری کے لیے کیش ٹرانزیکشن کی جاتی ہیں، تاجروں کے گروہ سونے کی قیمتوں اور سپلائی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ گولڈ مارکیٹ کو دستاویزی شکل دینے کے لیے اتھارٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ مسابقتی کمیشن کے مطابق معیار جانچنے کی ناکافی سہولیات کے باعث ملاوٹ اورصارفین کے ساتھ دھوکہ دہی کے مسائل عام ہیں، غیردستاویزی مارکیٹ ہونے کی وجہ سے سونے کا زیادہ تر لین دین نقد ہوتا ہے ، ملک میں سونے کی ریفائننگ تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے ، سونے کی درآمدات، فروخت، خالص ہونے سے متعلق قابل اعتماد ڈیٹا موجود نہیں۔رپورٹ کے مطابق مختلف شہروں کی ایسوسی ایشن روزانہ کی بنیادوں پر قیمتوں کا تعین کرتی ہیں، سونے کی مارکیٹ ریگولیٹ کرنے کے لیے جامع ریگولیشن موجود نہیں، ملک میں سونے کے نرخ مقرر کرنے کا کوئی مارکیٹ میکنزم موجود نہیں۔مسابقتی کمیشن کا کہنا ہے کہ سونے کی ٹرانزیکشن پر پیچیدہ ٹیکس نظام اسمگلنگ اور انڈرانوائسنگ کو فروغ دیتا ہے ، سونا کا ڈیٹا نہ ہونے سے موثر پالیسی سازی ممکن نہیں ہے ، گولڈ مارکیٹ منظم کرنے کیلئے مسابقتی کمیشن نے جامع اصلاحات تجویز کردیں۔مسابقتی کمیشن رپورٹ کے مطابق پاکستان گولڈ اینڈ جیم اسٹون اتھارٹی تشکیل دی جائے ، سونے کی لائسنسنگ، درآمدات،اینٹی منی لانڈرنگ ریگولیشنز نفاذ کیلئے جامع اتھارٹی قائم کی جائے ، سونے کے معیار کی جانچ اور درجہ بندی کو لازمی قرار دیا جائے ، سونے کی خرید و فروخت ایف بی آرٹریک اینڈ ٹریس سسٹم سے منسلک کی جائے ، ترکیہ کے ماڈل پر گولڈ بینک کا نظام قائم کیا جائے ۔رپورٹ کے مطابق ریکو ڈیک منصوبہ سونے کی سپلائی چین کو بدلنے کی ممکنہ طاقت رکھتا ہے ، ریکوڈیک گولڈ پراجیکٹ 37 سالہ دورانیے میں تقریبا 74 ارب ڈالرمالیت کا سونا نکالے گا۔ ریکو ڈیک منصوبے کے کمرشل آغاز سے پہلے گولڈ مارکیٹ کیلئے ریگولیشنز متعارف کروانے ضرووری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سونے کی مارکیٹ رپورٹ کے مطابق مسابقتی کمیشن سونے کے ملک میں کے لیے
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔