پاکستان اور بھارت بھیانک ایٹمی حملوں کے لیے تیار تھے، میں نے جنگ رکوائی: ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت ایٹمی حملوں کے لیے تیار تھے مگر میں نے مداخلت کر کے جنگ رکوا دی۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا سعودی بزنس فورم سے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امن کیلئے تاریخی کام کر رہے ہیں، میں نے 8 جنگیں رکوائیں، میں تنازعات کو حل کرنے میں ماہر ہوں، پاکستان اور بھارت سے کہا آپ جنگ کریں گے تو میں 350 فیصد ٹیرف لگاؤں گا، ٹیرف لگانے کا کہا تو پاکستان بھارت رک گئے۔
ٹرمپ کا پاک بھارت تنازع سے متعلق گفتگو میں کہنا تھا کہ میں نے کہا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک دوسرے پر ایٹمی حملے کریں، میں نے کہا آپ جنگ کریں گے تو تجارت نہیں ہوگی، نہیں چاہتا کہ ایٹمی دھماکوں کے بادل لاس اینجلس تک پہنچیں،
امریکی صدر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے جنگ رکوانے پر کال کر کے میرا شکریہ ادا کیا، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آپ نے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بچائیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم مودی نے بھی کال کر کے کہا کہ میں تیار ہوں، میں نے کہا کس بات پر تیار ہو تو مودی نے کہا کہ جنگ روکنے پر تیار ہوں، مودی نے کہا کہ میں پاکستان کے ساتھ جنگ نہیں کروں گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سعودی ولی عہد کی درخواست پر سوڈان تنازع پر بھی کام شروع کر دیں گے، سعودی ولی عہد چاہتے ہیں کہ میں سوڈان کے حوالے سے کوئی مضبوط اقدام کروں،
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا سوڈان میری ترجیح میں شامل نہیں تھا، میرے خیال میں سوڈان کی صورتحال پاگل پن اور بے قابو ہو جانے والی تھی، مجھے لگ رہا ہے کہ سوڈان بہت سے دوستوں اور آپ سب کیلئے بہت اہم ہے، ہم اب سوڈان پر کام شروع کرنے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکی صدر نے کہا کہ کہ میں
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔