رجب بٹ کی شراب نوشی پر والدہ کی وضاحت آگئی
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
رجب بٹ کی شراب نوشی کے الزام پر ان کی والدہ کی وضاحت سامنے آگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق کچھ روز قبل رجب بٹ کی نشے کی حالت میں چیٹ وائرل ہوئی تھی جس میں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ نشے کی حالت میں نامناسب الفاظ استعمال کرتے سنے گئے تھے۔
اُن کی جب یہ چیٹ وائرل ہوئی اور سوشل میڈیا پر تنقیدوں کا انبار لگ گیا تو رجب بٹ کی والدہ نے اپنے بیٹے کے اس رویے پر وضاحت جاری کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ رجب بٹ “نشے میں نہیں تھا” بلکہ دوا کے اثر میں تھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کا بیٹا سردیوں میں سائنس، گلے اور نزلے کی تکالیف کا شکار رہتا ہے اور وہ ایسی ادویات لیتا ہے جن سے غنودگی آتی ہے۔
جب وہ خود رجب کے ساتھ ہوتی ہیں تو “قدرتی علاج” استعمال کرتی ہیں مثلاً گرم پانی اور ہربل چائے، مگر وہ بیرونِ ملک ہے، اس لیے دواؤں پر انحصار کرنا پڑا۔
انہوں نے مذہبی اور ثقافتی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میرا بیٹا حسینی ہے، یزیدی نہیں، شراب ہمارے کلچر اور مذہب میں حرام ہے۔
وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ چونکہ وہ جس ملک میں ہے وہاں شراب پینا عام ہے لوگ اس بنیاد پر قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رجب بٹ کی
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔
ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔
We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.
Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔