شکریہ رونالڈو! میرا بیٹا اب میری زیادہ عزت کرے گا، صدر ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
عالمی شہرت یافتہ فٹبال اسٹار کرسٹیانو رونالڈو نے منگل کو وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے اعزاز میں عشائیے کی میزبانی کی۔
عشائیے میں رونالڈو امریکی صدر اور سعودی ولی عہد کے قریب بیٹھے جہاں ایپل کے سی ای او ٹم کک اور ٹیسلا کے بانی ایلون مسک بھی موجود تھے۔
صدر ٹرمپ نے تقریب میں شرکت پر کرسٹیانو رونالڈو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کا سب سے چھوٹا بیٹا 19 سالہ بیرون رونالڈو کا بہت بڑا فین ہے اور وہ آج آپ سے ملاقات کرکے بہت خوش ہوا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا رونالڈو کی بیرون سے ملاقات ہو گئی اور میرا خیال ہے اب وہ مجھے تھوڑی زیادہ عزت دے گا کیونکہ میں نے اس کو فٹبال اسٹار سے ملوایا ہے۔
واضح رہے کہ یہ رونالڈو کا 2014 کے بعد امریکہ کا پہلا دورہ تھا، فٹبالر اسٹار مستقل طور پر سعودی عرب میں ہی قیام پذیر ہیں۔
رونالڈو سعودی کلب النصر کے لیے کھیلتے ہیں اور 2022 میں انہوں نے 200 ملین ڈالر سالانہ تنخواہ پر معاہدہ سائن کیا تھا، سعودی عرب 2034 میں ورلڈ کپ کی میزبانی کرے گا۔
رونالڈو اگلے سال عالمی کپ کے چھٹے ایڈیشن میں حصہ لیں گے لیکن پہلے میچ میں ممکنہ طور پر فیفا کی پابندی کا سامنا کر سکتے ہیں۔
پرتگال نے حال ہی میں 2026 کے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا تھا جس میں امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو شریک میزبان ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔