موٹروے ایم-5 پر غنودگی کے دوران بس ڈرائیور پکڑا گیا، موٹروے پولیس کی بروقت کارروائی
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس (این ایچ ایم پی) کے اہلکاروں نے موٹروے ایم-5 پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک مسافر بردار بس ڈرائیور کو غنودگی کے عالم میں گاڑی چلاتے ہوئے روک لیا۔
ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق واقعہ اُس وقت پیش آیا جب پولیس افسران نے مسافر گاڑیوں میں نصب ڈیش کیم فوٹیج کی نگرانی کے دوران ایک بس ڈرائیور کو مسلسل جماعیاں لیتے اور غنودگی کا شکار ہوتے دیکھا۔ فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے بس کو روکا گیا۔
مزید پڑھیں: اوور اسپیڈنگ پر چالان، بچوں نے موٹروے پولیس سے عیدی مانگ لی
پولیس کے مطابق ڈرائیور کو چہرہ دھلوا کر ہوش میں لایا گیا تاکہ وہ مکمل طور پر بیدار ہو جائے۔ اس دوران افسران نے ڈرائیور کو نیند میں گاڑی چلانے کے خطرناک نتائج سے آگاہ کیا اور حفاظتی ہدایات بھی فراہم کیں۔
موٹروے پولیس کے افسران نے مسافر بردار گاڑیوں میں نصب ڈیش کیم کی نگرانی کے دوران موٹروے ایم 5 پر بس ڈرائیورکوغنودگی کی حالت میں دیکھا جو جماعیاں لے رہا تھا۔ بس ڈرائیور کو روکا گیا اور چہرہ دھلوایا گیا۔ سیٹ بیلٹ نہ باندھنے اور نیند میں گاڑی چلانے پر قانونی کاروائی عمل میں لائی گئی pic.
— National Highways & Motorway Police (NHMP) (@NHMPofficial) November 12, 2025
موٹروے پولیس نے تصدیق کی کہ ڈرائیور نے سیٹ بیلٹ بھی نہیں باندھ رکھی تھی، جس پر اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ترجمان این ایچ ایم پی کا کہنا تھا کہ ڈرائیونگ کے دوران نیند یا غنودگی نہ صرف ڈرائیور بلکہ مسافروں اور دیگر سڑک استعمال کرنے والوں کے لیے بھی شدید خطرہ بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: اووراسپیڈنگ کیخلاف موٹروے پولیس کی نئی سخت پالیسی کیا ہے؟
مسافروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سفر کے دوران اگر کسی ڈرائیور کو نیند میں یا لاپرواہی سے گاڑی چلاتے دیکھیں تو فوراً موٹروے پولیس ہیلپ لائن 130 پر اطلاع دیں۔
موٹروے پولیس نے واضح کیا کہ شہریوں کی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے لیے جدید نگرانی نظام، ڈیش کیم فوٹیج اور دیگر ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: موٹروے پولیس بس ڈرائیور ڈرائیور کو کے دوران
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک