ملک میں 1کروڑ 30لاکھ لوگ بیماریوں سے غربت کی لکیر کے نیچے چلے گئے: مصطفیٰ کمال
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
---فائل فوٹو
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملک بھر میں 1 کروڑ 30 لاکھ لوگ بیماریوں کے سبب غربت کی لکیر کے نیچے چلے گئے۔
فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن میں 118 موبائل ویکسینیشن وین صوبوں کو بھجوانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آج 118 گاڑیاں صوبوں کو بھجوا رہے ہیں تاکہ ہر بچے کی ویکسینیشن ہو سکے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ملک میں تین لاکھ 97 ہزار بچوں کی ویکسینیشن نہیں ہو سکی، جن بچوں کی ویکسینیشن ہو جاتی ہے وہ 13 بیماریوں سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 4 لاکھ 63 ہزار بچوں کو چند بیماریوں سے بچاؤ کے ٹیکے ہی لگا سکے ہیں، تمام بچوں کو 13مختلف بیماریوں سے بچانے کے لیے ویکسینیشن مکمل کروانی ہوگی، اگر لاکھوں بچوں کی ویکسینیشن نہیں ہوگی تو اسپتال بھر جائیں گے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ کوویڈ میں امریکا اور چین سمیت دنیا بھر میں صحت کا نظام مفلوج ہوگیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کی ویکسینیشن بیماریوں سے
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔