WE News:
2026-06-03@05:59:15 GMT

ٹرمپ نے سعودی عرب کو اہم نان نیٹو اتحادی کا درجہ دیدیا

اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا باقاعدہ طور پر سعودی عرب کو اہم نان نیٹو اتحادی کا درجہ دے رہا ہے، جو واشنگٹن اور ریاض کے درمیانی دفاعی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے اعزاز میں دیے گئے بلیک ٹائی ڈنر کے دوران کیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا اور سعودی عرب کے درمیان 300 ارب ڈالر کے متعدد معاہدوں پر دستخط

’آج رات مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم اپنی عسکری شراکت کو مزید بلندیوں پر لے جا رہے ہیں اور سعودی عرب کو باضابطہ طور پر نان نیٹو اہم اتحادی کا درجہ دے رہے ہیں، یہ وہ بات ہے جو ان کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔‘

https://Twitter.

com/business/status/1990978350748246125

اس نئے درجے سے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون مزید مضبوط ہوگا، اور علامتی طور پر بھی اس کی بڑی اہمیت ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اس سے امریکا سعودی دفاعی ہم آہنگی ’مزید بلند سطح‘ پر پہنچے گی۔

ولی عہد محمد بن سلمان نے ٹرمپ کا ’شاندار اور گرم جوش استقبال‘ پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہاں اپنے گھر جیسا محسوس ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی ولی عہد کا تاریخی وائٹ ہاؤس دورہ: امریکا نے سعودی عرب کو F-35 طیاروں کی منظوری دے دی

انہوں نے امریکا سعودی تعلقات کی تاریخی بنیادوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی شراکت تقریباً 9 دہائیوں پر محیط ہے، جب صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ اور جدید سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز کی تاریخی ملاقات ہوئی تھی۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے دونوں ممالک میں آنے والی بڑی قومی تقریبات کا حوالہ بھی دیتے ہوئے کہا کہ یہ طویل المدت تعلقات کا ثبوت ہیں، امریکا اپنی 250ویں سالگرہ اور سعودی عرب اپنی 300ویں سالگرہ کے قریب ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا نے پاکستان اور سعودی عرب کو ایئر ٹو ایئر میزائل پروگرام میں شامل کرلیا

انہوں نے عالمی جنگ دوم، سرد جنگ اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد سمیت کئی تاریخی مراحل پر مشترکہ تعاون کا ذکر کیا، لیکن اس بات پر زور دیا کہ آج دونوں ممالک ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں، جہاں معاشی تعاون غیر معمولی شعبوں تک پھیل رہا ہے۔

’آج کا دن خاص ہے، ہمیں یقین ہے کہ سعودی عرب اور امریکا کے درمیان معاشی تعاون کا دائرہ کئی شعبوں میں مزید وسیع ہو رہا ہے۔ ہم نے بہت سے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں جو ہمارے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا راستہ کھولتے ہیں، اور ہم اس پر مسلسل کام کریں گے۔‘

مزید پڑھیں:

انہوں نے مزید کہا کہ بڑے مواقع موجود ہیں اور دونوں ممالک کو ان مواقع کے عملی نفاذ پر توجہ دینا ہوگی۔

صدر ٹرمپ نے بھی بار بار ولی عہد کی قیادت اور شراکت کی تعریف کی، اور دورے کے دوران سول جوہری توانائی، اہم معدنیات اور مصنوعی ذہانت سمیت مختلف شعبوں میں طے پانے والے بڑے معاہدوں کا ذکر کرتے ہوئے انہیں بے مثال قرار دیا۔

مزید پڑھیں:

صدر ٹرمپ کے مطابق سعودی عرب دفاعی صلاحیت میں بڑی توسیع کر رہا ہے اور تقریباً 142 ارب ڈالر مالیت کے امریکی اسلحہ اور دفاعی نظام خریدنے کا منصوبہ رکھتا ہے، جسے انہوں نے ’تاریخ کی سب سے بڑی اسلحہ خریداری‘ کہا۔

انہوں نے اس منصوبے کو مشرق وسطیٰ میں استحکام بڑھانے اور سعودی عرب کے دفاعی کردار کو مضبوط کرنے کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا۔

مزید پڑھیں:

نان نیٹو اہم اتحادی کے درجے کے علاوہ ٹرمپ نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ایک تاریخی اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کی تصدیق بھی کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ’ایک زیادہ مضبوط اور مؤثر اتحاد‘ تشکیل دے گا اور مشرق وسطیٰ کو ’تا دیر قائم رہنے والے امن‘ کے قریب لے جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے علاقائی امن کی کوششوں اور خصوصاً غزہ جنگ کے خاتمے میں مدد دینے پر ولی عہد کا شکریہ ادا کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اتحادی اسلحہ امریکا امن جوہری توانائی دفاعی صلاحیت دفاعی نظام سرد جنگ سعودی عرب سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان مشرق وسطیٰ مصنوعی ذہانت معدنیات نیٹو ولی عہد شہزادہ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اتحادی امریکا جوہری توانائی دفاعی صلاحیت دفاعی نظام سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان مصنوعی ذہانت معدنیات نیٹو ولی عہد شہزادہ اور سعودی عرب سعودی عرب کے سعودی عرب کو دونوں ممالک مزید پڑھیں کے درمیان انہوں نے نان نیٹو ولی عہد کہا کہ رہا ہے

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے