WE News:
2026-07-24@01:53:15 GMT

ٹرمپ کی H-1B ویزا حمایت پر اپنی ہی جماعت میں مخالفت کی لہر

اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی جماعت کے ’میک امریکا گریٹ اگین‘ حامیوں کی جانب سے اس وقت سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جب انہوں نے پارٹی کے ایک متنازع مسئلے ایچ ون بی ویزا (H-1B) پر دوبارہ بحث چھیڑ دی۔

یہ ویزا امریکی کمپنیوں کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اعلیٰ مہارت رکھنے والے غیر ملکی کارکنان کو زیادہ سے زیادہ 6 سال کے لیے ملازمت دے سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:

یہ مسئلہ اس وقت دوبارہ زیرِ بحث آیا جب صدر ٹرمپ نے فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی ہنرمندوں کو امریکا لانا ضروری ہے تاکہ ملک میں ٹیلنٹ آ سکے۔

Trump just said H-1B visas are important to "bring in talent" and "You can't take people off an unemployment line and say I'm gonna put you into a factory where we're gonna make missiles".

Since unemployment affects two thirds of MAGA, many MAGA are annoyed with the orange turd. pic.twitter.com/iYzgttZF5q

— MAGAtard ???????????????? ???????? ???????? ???????? (@RealMAGAtard) November 12, 2025

اینکر کے اس مؤقف کے جواب میں کہ امریکا میں پہلے ہی باصلاحیت لوگ موجود ہیں، ٹرمپ نے کہا کہ ہمارے پاس کچھ مخصوص صلاحیتیں نہیں ہیں۔

’نہیں، آپ کے پاس نہیں! آپ کے پاس کچھ مخصوص صلاحیتیں نہیں ہیں، اور لوگوں کو سیکھنا پڑتا ہے، آپ بےروزگاروں کو فیکٹری میں نہیں لگا سکتے جہاں میزائل بن رہے ہوں۔‘

مزید پڑھیں:

ٹرمپ نے یہ بھی دفاع کیا کہ 600,000  چینی طلبا کو امریکی یونیورسٹیوں میں داخلے کی اجازت دینے کی حمایت انہوں نے اس لیے کی تاکہ امریکی تعلیمی ادارے کاروبار سے باہر نہ ہو جائیں۔

ایچ ون بی پروگرام کے حامی اسے امریکی مسابقت برقرار رکھنے کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں، جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے غیر ملکی کارکن امریکیوں کی ملازمتیں چھین لیتے ہیں۔

مارجوری ٹیلر

ریپبلکن رکنِ کانگریس مارجوری ٹیلر گرین نے ٹرمپ کے مؤقف پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ ’امریکا فرسٹ‘ اور ’صرف امریکا‘ پر یقین رکھتی ہیں۔

’میں امریکی عوام پر ایمان رکھتی ہوں، وہ ذہین، محنتی اور باصلاحیت ہیں، میں غیر ملکی مزدوروں کے حق میں نہیں ہوں جو ایچ ون بی کے ذریعے امریکیوں کی جگہ لیں۔‘

مزید پڑھیں:

فلوریڈا کے ریپبلکن رہنما انتھونی سباتینی نے خبردار کیا کہ یہ پالیسی 2026 کے مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکنز کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

’یہ پاگل پن ہے، ہم مڈٹرم انتخابات بری طرح ہار جائیں گے۔‘

دوسری جانب، وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ستمبر میں ٹرمپ انتظامیہ نے کمپنیوں پر ایچ ون بی ویزا کے لیے سالانہ 100,000 ڈالر فیس عائد کرنے کا اعلان کیا تھا تاکہ نظام میں شفافیت لائی جا سکے۔

مزید پڑھیں:

ترجمان ٹیلر راجرز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ امریکی کارکنوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہی ہے تاکہ ایچ ون بی صرف اعلیٰ ہنرمند افراد کے لیے استعمال ہو، نہ کہ کم اجرت والے کارکن جو امریکیوں کی جگہ لیں۔

ایچ ون بی ویزا ہمیشہ سے ٹرمپ کے حلقے میں ایک متنازع معاملہ رہا ہے، دسمبر 2024 میں ٹرمپ نے اسے ’زبردست پروگرام‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایچ ون بی کے حامی ہیں۔

ایلون مسک نے، جو خود جنوبی افریقہ سے ایچ ون بی ویزا پر امریکا آئے تھے، ٹرمپ کے مؤقف کی حمایت کی۔

اسٹیو بینن

’میں اور وہ لوگ جنہوں نے اسپیس ایکس، ٹیسلا اور دیگر کمپنیوں کو بنایا، سب ایچ ون بی کی بدولت امریکا میں ہیں۔‘

تاہم، اسٹیو بینن جیسے پرانے میگا رہنماؤں نے پروگرام کو فریب قرار دیا اور مسک کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

مزید پڑھیں:

’ٹیک کمپنیاں ایچ ون بی سسٹم کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتی ہیں، عوام غصے میں ہیں، میں ذاتی طور پر مسک کو وائٹ ہاؤس سے باہر کرنے کو اپنا مشن بناؤں گا۔‘

ادھر بائیں بازو کے رہنما بھی اس پروگرام کے ناقد ہیں۔ سینیٹر برنی سینڈرز نے کہاکہ ایچ ون بی ویزے کا مقصد ’بہترین اور باصلاحیت‘ کو بھرتی کرنا نہیں، بلکہ امریکیوں کی اچھی تنخواہ والی نوکریاں سستے غیر ملکی مزدوروں سے بدلنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

H-1B ایچ ون بی ایلون مسک برنی سینڈر ٹرمپ جنوبی افریقہ ڈونلڈ ٹرمپ میک امریکا گریٹ اگین وائٹ ہاؤس ویزا

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایچ ون بی ایلون مسک جنوبی افریقہ ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس ویزا ایچ ون بی ویزا امریکیوں کی مزید پڑھیں غیر ملکی کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز

امریکی سفارت خانے نے امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں ’لیٹ فریڈم رنگ‘ کے عنوان سے ’لبرٹی بیل‘ نمائش کا افتتاح کر دیا۔

نمائش میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 16 پاکستانی فنکاروں کے تیار کردہ منفرد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہر فنکار نے اپنے انداز میں ‘آزادی’ کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق

نمائش کا افتتاح لوک ورثہ میوزیم میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے مشترکہ طور پر کیا۔

پاکستانی فنکاروں نے ‘آزادی’ کی نئی تعبیر پیش کی

امریکی سفارت خانے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں امریکی مشن کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن نے اپنے ‘لنکن کارنرز’ نیٹ ورک کے ذریعے ترتیب دیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 16 فنکاروں کو شریک کیا گیا۔

Federal Minister for NH&C Aurangzeb Khan Khichi and U.S. Chargé d’Affaires Andy Halus on Thursday jointly inaugurated the “Let Freedom Ring” American Liberty Bell display at Lok Virsa Heritage Museum, celebrating the enduring cultural partnership between Pakistan & United States pic.twitter.com/3uqKCelXK9

— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) July 23, 2026

ہر فنکار سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ ’میرے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟ ’اس سوال کے جواب میں فنکاروں نے ’لبرٹی بیل‘ کے منفرد ڈیزائن تخلیق کیے، جو پاکستانی نقطۂ نظر سے آزادی کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔

نمائش 5 روز تک جاری رہے گی

‘لیٹ فریڈم رنگ’ نمائش 23 سے 27 جولائی تک اسلام آباد کے 2 نمایاں ثقافتی مراکز، لوک ورثہ میوزیم اور پاکستان مونومنٹ میوزیم میں جاری رہے گی۔

امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس 5 روزہ نمائش کے دوران دونوں مقامات کا دورہ کریں اور فن پاروں کا مشاہدہ کریں۔

امریکا اور پاکستان کے مشترکہ اقدار پر زور

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ ‘لبرٹی بیل’ آزادی، اظہارِ رائے اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہے۔

أعلنت السفارة الأمريكية في إسلام آباد عن افتتاح معرض ليت فريدوم رينغ في متحف لوك ورثه ومتحف النصب التذكاري الباكستاني، وذلك ضمن الاحتفالات العالمية بمرور ٢٥٠ عامًا على إعلان الاستقلال الأمريكي.

شارك في الافتتاح القائم بالأعمال الأمريكي آندي هيلز ووزير التراث الوطني والثقافة… pic.twitter.com/EcPOSXchyu

— WE News | بالعربية (@WENewsArabic) July 23, 2026

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں معاشروں میں فن، تخلیقی اظہار اور بہتر دنیا کے تصور کو اہمیت دی جاتی ہے۔

لوک ورثہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس تاریخی مقام پر امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پیش کرنا باعثِ فخر ہے۔

ثقافتی تبادلوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر زور

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

انہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔

امریکا 2026 میں اپنے اعلانِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز کے زیرِ اہتمام ‘فریڈم 250’ کے عنوان سے مختلف تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ‘لیٹ فریڈم رنگ’ مہم بھی اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادی، اختراع، تخلیقی اظہار اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔

اس نمائش کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے آزادی کے تصور کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزادی افتتاح لوک ورثہ میوزیم امریکا امریکی سفارتخانہ امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس پاکستان ثقافتی تبادلہ فنکاروں لبرٹی بیل لیٹ فریڈم رنگ مونومنٹ میوزم

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم