چین کی ویزا فری پالیسی کے فوائد: نہ صرف آمد و رفت، بلکہ تہذیبوں کا ایک سنگم
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
چین کی ویزا فری پالیسی کے فوائد: نہ صرف آمد و رفت، بلکہ تہذیبوں کا ایک سنگم WhatsAppFacebookTwitter 0 20 November, 2025 سب نیوز
بیجنگ:چین کی ویزا فری پالیسی کے فوائد مسلسل اجاگر ہو رہے ہیں۔ 2025 کے پہلے 9 ماہ میں 178 ملین افراد کی آمد و رفت کے اعداد و شمار اور 12.9 فیصد کی سال بہ سال نمو، ان اعداد کے پیچھے نہ صرف بین الاقوامی سیاحت کا عروج کارفرما ہے، بلکہ یہ مختلف تہذیبوں کے درمیان سمندروں اور پہاڑوں کو عبور کرنے والے گہرے روابط کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ جب کینیڈا کے ثقافتی بلاگر Josh Guvi نے TikTok پر چین میں سفر کے دوران اپنے ثقافتی تجربات شیئر کیے، اور چینی انٹرنیٹ صارفین نے کھلے پن کے ساتھ ان پر تبصرے کیے، تو ہم نے محسوس کیا کہ ویزا فری پالیسی صرف “سیر سپاٹے اور کھانے پینے” والے سیاحوں ہی کو نہیں لاتی، بلکہ اس کے ذریعے تہذیبوں کے درمیان باہمی جائزہ لینے، تحقیق کرنے، سمجھنے کی خواہش اور دوطرفہ تبادلے کے لامحدود امکانات بھی جنم لیتے ہیں۔
Josh Guvi نے چین میں اپنے سفر کے ایک ویڈیو میں کہا: فرض کریں آپ چین گئے، وہاں کے شہر، روشنیاں اور رونقیں بہت شاندار ہو سکتی ہیں۔ لیکن آپ خود کو الگ محسوس کرتے ہیں، جیسے آپ روزانہ کسی تقریب کے تماشائی بنے ہوں، آپ ایسی زبان سن رہے ہوتے ہیں جو آپ نہیں سمجھتے، اور ایسی رسم و رواج کی پیروی کر رہے ہوتے ہیں جو آپ کے لیے اجنبی ہیں۔ جب آپ اردگرد دیکھتے ہیں تو آپ کے اردگرد موجود لوگ آپ سے مختلف نظر آتے ہیں، اور وہ صرف آپ کو ہی دیکھتے رہتے ہیں۔ شاید دنیا ویسی ہی ہے، مختلف مقامات، مختلف لوگ، مختلف گروہ، ہے نا؟ مگر پھر اچانک کوئی نظر ملتی ہے، کوئی مسکان بکھرتی ہے، اور سب کچھ بدلنے لگتا ہے۔ جب آپ تماشائی بننے کی بجائے اس کا حصہ بن جاتے ہیں، تو پتہ چلتا ہے کہ یہ قہقہے آپ کے خلاف نہیں، آپ کے ساتھ ہیں۔ ویسے بھی خوشی کسی مترجم کی محتاج نہیں ہوتی۔اور پھر ایک دن آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ اب چین کو محض دیکھ نہیں رہے، آپ چین کو جی رہے ہیں۔ اگر آپ کو چین یا کہیں اور جانے کا موقع ملے جو آپ کیلئے انجان ہو تو آپ بس اتنا جان لیں کہ تعلق کا احساس کبھی کچھ پانے کا نام نہیں، بلکہ کچھ چھوڑنے کا نام ہے۔جب آپ ایک مقام پر اپنا ٹھکانہ چھوڑ دیتے ہیں تو آپ کو خوشگواری کا احساس ہوگی کہ آپ ہر جگہ کا حصہ بن سکتے ہیں اور کسی بھی جگہ کو اپنا گھر محسوس کر سکتے ہیں ۔
یہ تحریر شاید بہت سے لوگوں کے غیرملکی سفر کے مشترکہ جذبات کی عکاسی کرتی ہے، جو صرف چین تک محدود نہیں۔ اور چینی انٹرنیٹ صارفین کے تبصرے بھی بہت دلچسپ ہیں۔ مثال کے طور پر، صارف buwawa04 نے لکھا: درحقیقت ظاہری شکل و صورت اہم نہیں ہے، کیونکہ ہمارے یہاں 56 قومیتیں ہیں جن کی شکلیں مختلف ہیں۔ چینی زبان نہ آنا بھی اہم نہیں ہے، کیونکہ کچھ اقلیتی گروہوں کی اپنی زبانیں بھی ہیں۔ سب سے اہم چیز کھلا ذہن (Open Mind) رکھنا ہے۔ صارف Lao Wei نے لکھا: آپ اپنی زندگی گزارئیے، اس دوران ایک دو دوست بنا لیجیے، اگر قسمت اچھی ہوئی تو آپ کو محبت بھی مل جائے گی، بس اتنا ہی۔ صرف ایک بات کا خیال رکھیں، ہمارے معاشرے میں اخلاقی حدود و قیود ہیں، ہو سکتا ہے آپ انہیں اہم نہ سمجھیں، لیکن اپنی خوشگوار زندگی کے لیے براہ کرم ان کی پابندی کریں، اس سے آپ کے بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔ صارف Jin نے لکھا: چین میں ضم ہونا مشکل نہیں ہے، بلکہ آپ کی یہ خواہش ہے کہ چین آپ کے آرام دہ طریقے سے کام کرے۔ لیکن پھر بھی، چین آپ کا خیرمقدم کرتا ہے۔
Josh Guvi کے الفاظ میں “الگ محسوس کرنا اور تماشائی بنے رہنا” دراصل بین الثقافتی ملاقاتوں میں پائی جانے والی عام الجھن کو ظاہر کرتا ہے: شکل و صورت کا فرق، زبان کی رکاوٹ، رسم و رواج کا مختلف ہونا۔ یہ اجنبیت صرف چین میں ہی نہیں پائی جاتی، بلکہ یہ مختلف تہذیبوں کے ملاپ کے وقت ایک قدرتی بفر زون کا کام کرتی ہے۔ چین کی ویزا فری پالیسی نے اس قسم کے ملاپ کو زیادہ عام بنا دیا ہے، اور ثقافتی اختلافات کو تجریدی خیال سے نکال کر عملی تجربے میں بدل دیا ہے ، خواہ وہ کھانا آرڈر کرنے کے اشاروں سے پیدا ہونے والی کوئی غلط فہمی ہو، یا پھر بغیر ترجمے کے ہونے والی مسکراہٹوں کا تبادلہ۔ یہی حقیقی رابطے ہیں جو “اجنبی تہذیب” کو کتابوں کی زینت بنے رہنے کے بجائے محسوس کی جا سکنے والے زندگی کے مناظر میں بدل دیتے ہیں، اور لوگوں کو ان کے آرام دہ دائرے سے باہر نکلنے پر مجبور کرتے ہیں، تاکہ وہ خود اور دوسروں کی ثقافتی حدود کا خود بخود جائزہ لینے لگیں۔
تہذیبوں کا باہمی تعلق کبھی بھی یک طرفہ “ضم ہونا” نہیں رہا، بلکہ یہ دو طرفہ “دید” کی کیفیت ہے۔ Josh Guvi کو آخرکار اس بات کا ادراک ہوا کہ “ضم ہونے کے تصور کو چھوڑنے سے ہی تعلق کا احساس ملتا ہے”، اور یہ بات چینی انٹرنیٹ صارفین کے تبصروں سے حیرت انگیز طور پر میل کھاتی ہے۔ چین غیرملکی مہمانوں سے یہ توقع نہیں رکھتا کہ وہ مقامی ثقافت میں ضم ہونے کے لیے اپنی ثقافتی شناخت کو ترک کر دیں، اور نہ ہی غیرملکی مہمانوں کو اس جستجو میں رہنا چاہیے کہ وہ چین کو اپنے مطابق ڈھالیں گے۔ جیسے مسکراہٹوں اور قہقہوں کو ترجمہ کی ضرورت نہیں پڑتی ، ویسے ہی حقیقی تفہیم بھی عموماً اُن لمحات میں جنم لیتی ہے جب ہم پیشگی مفروضوں کو چھوڑ کر برابری کی سطح پر بات چیت کرتے ہیں ۔ اور اختلافات کو تسلیم کر کے باہمی عزت کے جذبوں کو پروان چڑھاتے ہیں۔
چین کی ویزا فری پالیسی کی پیشرفت، بنیادی طور پر پوری دنیا کے لیے ایک تہذیبی دعوت نامہ ہے۔ یہ عملی اقدامات کے ذریعے ثابت کرتی ہے کہ کھلا پن محض غیر فعال طور پر قبول کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ فعال مکالمے کی ایک شکل ہے؛ یہ یک طرفہ ثقافت نہیں، بلکہ تہذیبوں کا دوطرفہ سفر ہے۔ ویزا فری پالیسی کے تحت، ہر بین الثقافتی ملاقات دراصل ایک تہذیبی مکالمہ ہے۔ جب زیادہ سے زیادہ لوگ تجسس لے کر آتے ہیں اور ہم آہنگی سیکھ کر واپس جاتے ہیں، جب مختلف تہذیبیں باہمی رابطے میں ایک دوسرے سے سیکھتی ہیں اور مشترکہ ترقی کرتی ہیں، تو چین کی یہ کھلی پالیسی معاشی فوائد سے آگے بڑھ کر عالمی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ یہ پالیسی انسانی تہذیبوں کی ہم آہنگی سے بقائے باہمی کا زندہ نمونہ پیش کرتی ہے اور مشترکہ انسانی مستقبل کی تعمیر کے لیے تہذیبی توانائی فراہم کرتی ہے۔یہی وہ بیش بہا تحفہ ہے جو چین کی ویزا فری پالیسی نے پوری دنیا کے لیے پیش کیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسرکاری ملازمین کو دھمکی آمیز بیان، الیکشن کمیشن نے سہیل آفریدی کو کل طلب کرلیا سونے کی قیمت میں آج ہزاروں روپے کی کمی، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟ ایف پی سی سی آئی اور سمیڈا کے زیر اہتمام انٹرنیشنل ویمن انٹرپنیورشپ ڈے کی تقریب کا انعقاد سونے کی قیمت میں بہت بڑی کمی ریکارڈ؛ فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟ پہلے سیکیورٹی پھر تجارت، پاکستان نے افغان سرحد غیر معینہ مدت کیلئے بند کر دی پہلے سکیورٹی پھر تجارت، پاکستان نے افغان سرحد غیر معینہ مدت کیلئے بند کر دی حکومت کا پیٹرول پرلیوی میں ایک روپے 60پیسے فی لیٹر کا اضافہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چین کی ویزا فری پالیسی ویزا فری پالیسی کے تہذیبوں کا
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔