اسلام آباد:

رواں مالی سال 2025-26کے پہلے 4 ماہ (جولائی تا اکتوبر)میں پاکستان کو بیرونی ذرائع سے مجموعی طور پر 2 ارب 29 کروڑ ڈالرز کے فنڈزملے ہیں، جن میں 2 ارب 24 کروڑ ڈالر قرض اور 5 کروڑ ڈالر کی گرانٹ شامل ہے۔

اقتصادی امور ڈویژن حکام کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں ملنے والی بیرونی مالی معاونت 649 ارب 47 کروڑ روپے کے مساوی ہے جب کہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں رواں مالی سال 33 فیصد زیادہ فنڈز ملے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ نان پراجیکٹ ایڈ کی مد میں ایک ارب 51 کروڑ ڈالر، مختلف منصوبوں کے لیے 77 کروڑ 32 لاکھ ڈالر حاصل ہوئے۔  عالمی مالیاتی اداروں نے ایک ارب 10 کروڑ ڈالر فراہم کیے ہیں، جن میں عالمی بینک کے 30 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ،اسلامی ترقیاتی بینک کا 36 کروڑ ڈالر کا شارٹ ٹرم لون شامل ہے جب کہ نیا پاکستان سرٹیفکیٹ میں 73 کروڑ 47 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری آئی ہے۔

مختلف ممالک نے پاکستان کو 45 کروڑ ڈالر فراہم کیے ہیں۔  سعودی عرب نے 40 کروڑ ڈالر کی آئل فیسیلٹی فراہم کی ہے۔ اسی طرح ایشیائی ترقیاتی بینک نے 16 کروڑ 74 لاکھ ڈالر دیے جب کہ چین نے پاکستان کو 97 لاکھ ڈالر اور امریکا نے ڈھائی لاکھ ڈالر کی گرانٹ دی۔

اقتصادی امور ڈویژن کی دستاویز کے مطابق رواں مالی سال مجموعی طور پر 19 ارب 92 کروڑ ڈالر کی بیرونی مالی معاونت ملنے کا تخمینہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: رواں مالی سال پاکستان کو کروڑ ڈالر لاکھ ڈالر ڈالر کی

پڑھیں:

پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے