قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد آرمی ایکٹ ترمیمی بل آج سینیٹ میں پیش کیا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد آرمی ایکٹ ترمیمی بل آج سینیٹ میں پیش کیا جائے گا WhatsAppFacebookTwitter 0 14 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس):آرمی ایکٹ ترمیمی بل قومی اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد آج سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، اس حوالے سے اجلاس کا ایجنڈا بھی جاری کر دیا گیا۔
جاری ایجنڈے کے مطابق وزیر دفاع خواجہ آصف
آرمی ایکٹ ترمیمی بل
منظوری کے لیے سینیٹ میں پیش کریں گے۔
وزیر دفاع کی جانب سے پاکستان ائیر فورس ایکٹ ترمیمی بل اور پاکستان نیوی آرڈیننس ترمیمی بل بھی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل بھی منظوری کے لیے ایوان میں پیش کریں گے۔
واضح رہے کہ یہ تمام بل قومی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے منظور کیے جا چکے ہیں۔
قومی اسمبلی نے پاکستان آرمی ایکٹ 1952ء، پاکستان ایئرفورس ایکٹ 1953ء اور پاکستان نیوی آرڈیننس 1961ء میں ترامیم کثرت رائے سے منظور کی تھی۔
آرمی چیف کو اگلے پانچ برس کے لیے چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کر دیا گیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسپریم کورٹ کے ججوں کے استعفے کا تحریک انصاف کا خیر مقدم،حکومت پر شدید تنقید سپریم کورٹ کے ججوں کے استعفے کا تحریک انصاف کا خیر مقدم،حکومت پر شدید تنقید نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کا دورہ بنگلہ دیش، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق جسٹس امین الدین خان پاکستان کی پہلی وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس مقرر آئینی ترمیم کی منظوری پر سپریم کورٹ کے رکن لا اینڈ جسٹس کمیشن مخدوم علی خان مستعفی قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2025 منظور کرلیا ججز کے استعفے کئی حوالوں سے غیر آئینی اقدامات کہے جا سکتے ہیں: حکومتی رد عملCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ا رمی ایکٹ ترمیمی بل پیش کیا جائے گا قومی اسمبلی سے سینیٹ میں پیش سپریم کورٹ منظوری کے کے لیے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔