پاکستان میں رواں مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ میں 14 ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹر
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
رواں مالی سال کے ابتدائی چار ماہ میں 14 ہزار 802 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن ہوئی ہے۔ ایس آئی ایف سی کی حکمت عملی کے تحت کاروباری مواقع اور سرمایہ کاری کے دائرہ کار میں نمایاں توسیع دیکھی گئی۔
سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان کے مطابق پاکستان میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 72 ہزار 918 تک پہنچ گئی ہے، جس میں آئی ٹی اور ای کامرس کا شعبہ 670 نئی کمپنیوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔
رجسٹرڈ کمپنیوں میں 59 فیصد پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں شامل ہیں، جبکہ 30 سے زائد ممالک سے 332 کمپنیوں نے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کیا ہے۔
لاہور، اسلام آباد اور کراچی جیسے بڑے شہروں کے ساتھ تقریباً 30 فیصد رجسٹریشنز ملک کے دیگر 250 شہروں اور قصبوں سے بھی ہوئی ہیں، جو کاروباری سرگرمیوں میں یکساں اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔