کیا مستقبل میں اے آئی ایک عالمِ دین کی جگہ لے لے گی؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: یاد رکھیئے کہ دینی تعلیم اور دینی تحقیق کا مقصد ایسے انسان پیدا کرنا ہے، جو فکر میں وسیع، جذبے میں خالص اور عمل میں سنجیدہ ہوں۔ علم ِدین اسوقت نور بنتا ہے، جب وہ انسان کو ظاہر سے باطن تک لے جائے اور تعلیم اسوقت تربیت بنتی ہے، جب وہ لفظ سے آگے عمل کا سفر طے کر لے۔ پس آنیوالے عہد میں وہی دینی مسلح یا دینی محقق کارگر ثابت ہوگا، جو اے آئی سے استفادہ کرنے کا ہُنر جانتا ہوگا۔ یوں انسانی مستقبل کی ٹریجڈی یہ نہیں ہوگی کہ مستقبل میں اے آئی ایک عالمِ دین یا ایک دینی محقق کی جگہ لے لے گی بلکہ اگر ہم نے آج سے اے آئی کو سیکھنے کی کوشش نہ کی تو خدانخواستہ یہ ٹریجدی جنم لے گی کہ ایک عالمِ دین اے آئی سیکھنے میں پیچھے رہ جائے گا اور یوں وہ ایک مرتبہ پھر دوسروں کی امامت و رہبری کرنے کے بجائے دوسروں کے پیچھے کھڑا نظر آئے گا۔ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی
اے آئی کا ظہور ایک نئے عہد کا آغاز ہے۔ ایک ایسا عہد جس میں عقلِ انسانی اپنی توسیعِ ذات کو ایک غیر انسانی ذہن میں مجسم دیکھ رہی ہے۔ آج کا دور انسانی ذہن کی توسیع کا عہد بھی ہے اور اس توسیع کی آزمائش کا زمانہ بھی۔ اس کی مثال ایک ایسے آئینے کی سی ہے کہ جو صرف چہروں کو نہیں دکھاتا بلکہ چہروں کے پیچھے پوشیدہ ذہنی نقوش کو بھی منعکس کرتا ہے مگر پھر بھی خود انسان کی آنکھ نہیں بن پاتا۔ اے آئی تحقیق کے عمل کو زیادہ سریع، وسیع اور منظم بنا دیتی ہے۔ یہ مصادر و منابع کو لمحوں میں کھول دیتی ہے، معلومات اور دلائل کے درست راستے شناخت کر لیتی ہے اور پیچیدہ ڈیٹا کو آسانی سے ترتیب دے دیتی ہے، مگر انسانی محقق کی نیّت، اندرونی جستجو، تخلیقی تشنگی اور انسانی ضمیر و وجدان سے اٹھتے ہوئے حقیقی سوالات کا متبادل پیش نہیں کرسکتی۔ اے آئی تحقیق کا سارا سامان تو آمادہ کر لیتی ہے لیکن محقق کا خلا پُر کرنے سے عاری ہے۔
ایک دینی طالب علم اپنی تحقیق صرف معلومات کی جمع آوری کے لیے انجام نہیں دیتا بلکہ اپنی تحقیق کے نتائج کو اپنے وجود کی گہرائیوں میں اتارنے اور اپنے آپ کو عقائد کے قالب میں ڈھالنے کیلئے انجام دیتا ہے۔ جس طرح ایک دینی مصلح انسان کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے، اس طرح اے آئی انسان کے داخلی جہان کی باریکیوں کو چھونے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اے آئی کا اوزار انسانی ہاتھ اور معلومات کی قوت کو ناقابلِ یقین حد تک بڑھاتا ہے، نیز اس سے انسانی ذہن کا کینوس وسیع تر ہو جائے گا۔ انسان اب تک اگر کسی میدان میں اپنی سوچ کا ایک شعبہ کھولتا ہے تو اے آئی سے اس شعبے کے کھلنے کے ہزار در ہزار امکانات مزید روشن ہو جائیں گے۔ اس طرح یہ ذہنی افزائش اور تعلیم و ترقی کی ایک بے مثال قوت بن جائے گی۔
چنانچہ اے آئی ایک دینی طالب علم یا دینی محقق کی جگہ لینے سے قاصر رہے گی، چونکہ ایک دینی محقق کی جگہ وہ لے سکتا ہے، جسے انسانی تجربے اور انسان کے اندرونی و وجدانی تضادات کا ادراک ہو اور جس کے سوالات ضمیر کی بےچینی سے اٹھتے ہوں اور جس کے نتائج اس کے عقیدے کے سفر کا حصہ ہوں۔ اے آئی نہ نیّت رکھتی ہے، نہ عقیدہ، اسے نہ کوئی بےچینی ہے اور نہ کوئی اضطراب اور نہ ہی اس کے پاس وہ وہم، وسواس اور اندیشے ہیں، جو تخلیقِ تحقیق کا پہلا محرک ہوتے ہیں، جبکہ انسان تو عبارت ہی وہم، وسواس، اضطراب، بے چینی، تڑپ اور نیت و ارادے سے ہے۔ انسان جب سوچتا ہے تو اپنے زمانے، اپنی تاریخ، اپنی ثقافت اور اپنے مسائل و دکھوں کے بوجھ کے ساتھ سوچتا ہے۔ یہی بوجھ علم کو تحقیق کی آنچ دیتا ہے۔ اے آئی تحقیق تو کرسکتی ہے اور کرتی رہے گی، لیکن وہ تحقیق کی وہ حرارت پیدا نہیں کرسکتی، جو ایک دینی محقق یا عالمِ دین پیدا کرتا ہے۔
اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ بلاشبہ اے آئی نئے اور جدید محققین کی نئی علمی پیدائش اور ان کے تحقیقی انداز میں جِدّت کا ذریعہ بنے گی۔ یہ جِدّت افکار اب ضروری بھی ہے، چونکہ انسان کا ذہن اب ایک ایسا افق پا چکا ہے کہ جہاں وہ اپنی فکری کمزوریوں اور عقائد کی غلطیوں کو اے آئی کے علم کے سہارے سے ٹھیک سکتا ہے اور اپنی علمی طاقت کو غیر انسانی ذہانت کی مدد سے کئی گنا بڑھا سکتا ہے۔ ایک طالب علم کا اور علم دین کا مستقبل انسانی اور مصنوعی ذہانت کے اسی باہمی تعلق میں پوشیدہ ہے۔ ایک ایسا تعلق جہاں ایک مضطرب انسان سوال اُٹھاتا ہے اور اے آئی اس کیلئے جوابی امکانات کا آسمان کھول دیتی ہے، مگر سوال اور جستجو کا اصل نور اب بھی انسان کی اندرونی دنیا سے پھوٹتا ہے اور شاید ہمیشہ وہیں سے پھوٹتا رہے گا۔
اے آئی اور دینی طالب علم کے باہمی تعلق کو سمجھنے کیلئے دینی تعلیم کے مقصد اور دینی مدارس کے دائرہ کار سے آشنائی بھی لازمی ہے۔ ان کی غرض و غایت ذخیرہ ِالفاظ یا ذہنوں کو پراگندہ مطالب سے بھرنے کے بجائے انسانوں کو عقائد کے قالب میں ڈھال کر انہیں الہیٰ انسان بنانا ہے۔ صرف درست معلومات کو جمع کرنے سے کچھ نہیں ہوتا، انسان کی اصل ضرورت تو درست عقیدے میں ڈھلنا ہے۔ اس میں ڈھلے بغیر کوئی انسان ایک نظریاتی شخص اور قابلِ اعتماد انسان نہیں بن سکتا، اسی طرح اگر انسانی تربیت عقیدے سے جنم نہ لے تو انسان نفسانی دباو اور خرافات کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا۔ اس لحاظ سے ایک حقیقی دینی درسگاہ یا دینی مدرسہ وہ تربیتی مرکز ہوتا ہے کہ جہاں انسان اپنی عقل کو ایمان اور عقیدے کے ساتھ ہم آہنگ کرنے اور پرکھنے کا تجربہ کرتا ہے۔
عقل اور عقیدے کی ہم آہنگی کے کیلئے زبان یعنی اظہار کی قوت ہی پہلا وسیلہ ہے۔ بلاشبہ اظہار کی قوت ہی فہم کی گہرائی پیدا کرتی ہے۔ چنانچہ معانی کے در وا کرنے کیلئے دینی طلباء کو جہاں عربی کی بلاغت سکھائی جاتی ہے، وہیں فارسی و اردو کی نزاکتوں کے زاویے بھی اُن پر عیاں کرنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔ یہاں پر بین الاقوامی برادری کے ساتھ افہام و تفہیم کی خاطر انگریزی زبان کی وسعتِ بیان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ زبان کا جمال فکر و احساس کو لطیف بناتا ہے اور اس کے بعد علمِ کلام کی مباحث کا اثر دلوں تک پہنچتا ہے۔ خطابت، تحریر اور مکالمے کی مشق طالب علم کو ایسا معلم بناتی ہے کہ جس کی بات کی عقل قدر دانی کرتی ہے اور دل اسے قبول کرتے ہیں۔
ڈیجیٹل عہد اور مصنوعی ذہانت نے دینی مدارس کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔ قلم اب سکرین پر چلتا ہے اور مکالمہ مائیک و کیمرے کے سامنے ہوتا ہے۔ اس دور میں دینی طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید ذرائعِ ابلاغ کے استعمال اور ان کی زبان سے آگاہ ہو۔ گرافک ڈیزائن، ویڈیو اور آڈیو مواد کی تیاری اور سوشل میڈیا پر علمی اظہار وہ راستے ہیں، جن سے دینی طلباء و علمائے دین کے پیغام کو مقبولیتِ عام ملتی ہے۔ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی بھی علم جب جدید اسلوب اختیار کرتا ہے تو تبھی وہ زندہ بھی رہتا ہے۔ اب اس پر آجائیے کہ تحقیق علمِ دین کی روح ہے۔ عام مطالعہ نہیں بلکہ تحقیق کی خاطر کیا جانے والا مطالعہ جب سوال میں ڈھلتا ہے تو فہم کی زمین زرخیز ہوتی ہے۔ دینی تعلیم جہاں روایت کا تسلسل ہے، وہیں تجدید کا شعور بھی۔ حوالہ، تجزیہ اور تنقیدی مطالعہ وہ اوزار ہیں، جن سے طالب علم روایت کی گہرائی میں اتر کر اس کے جوہر کو دریافت کرتا ہے۔ یعنی دماغوں کیلئے علم کی تازہ غذا اسی وقت آمادہ ہوتی ہے کہ جب انہیں تحقیق کی آنچ پر رکھ کر حرارت دی جائے۔
دینی درسگاہوں کو اپنے طلباء کے اندر تعلیم کے ذریعے وہ صفات پیدا کرنی ہوتی ہیں کہ جو اجتماعی نظم، مشاورت، دیانت اور خدمت کا شعور دیں۔ المختصر یہ کہ دینی تعلیم کا مقصد یہی ہے کہ علم، عمل اور اخلاق ایک وحدت میں پروئے جائیں۔ اس زاویے سے مالی بصیرت بھی دینی تعلیم کا ناگزیر پہلو ہے۔ اب دینی مدارس اگر فنانشل لٹریسی کے میدان میں پیچھے رہ جائیں تو اس میں اے آئی کا کوئی قصور نہیں۔ حقیقتِ حال یہ ہے کہ خود کفالت ایک عالمِ دین کے وقار کو بڑھاتی ہے۔ اسلامی مالیات، شفافیت اور امانت کے اصول طلباء میں عملی ذمہ داری کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ اے آئی ان اصولوں کو سمجھنے اور اپنانے کیلئے بہترین معاون، مشیر اور رہنماء ہے۔ جس طالب علم کے اندر اے آئی کی وساطت سے معیشت کی سوجھ بوجھ پیدا ہو جائے گی، وہ آنے والے زمانے میں نہ کسی کا محتاج بنے گا اور نہ موقع پرست۔
اس حقیقت کو درک کیجئے کہ جب ذہن مقصدِ وجود پر غور کرتا ہے تو اس میں بصیرت جنم لیتی ہے۔ اے آئی کی تعلیم ایک دینی طالب علم کو یہ سمجھ عطا کرتی ہے کہ اختلاف ِرائے کسی بھی شکل میں ہو، وہ تنوع کی علامت اور نوآوری کی ضرورت ہے۔ اختلاف رائے سے ڈرنے کے بجائے اختلاف کا حل سیکھنا علم ِدین کی روحانی پہچان ہے۔ جو دلوں کے زخم سمجھ لیتا ہے، وہ نفوس کی اصلاح کا اہل ہوتا ہے۔ اختلاف کو تہذیب سے سلجھانے اور دوسروں کے احساس کو سمجھنے کی صلاحیت علم کو اخلاق کا لباس عطا کرتی ہے۔ اس میدان میں ایک دینی طالب علم کیلئے اے آئی ایک بہترین معاون اور رہنماء ہے۔ عملی اور فنی مہارتیں وحی پر مبنی دینی تعلیم کو زمینی حقیقت سے جوڑتی ہیں۔ ترجمہ، تدوین اور تعلیمی مواد کی تیاری وہ ہنر ہیں، جو علم کو عمل میں ڈھالتے ہیں۔ جب دینی طالب علم اپنے علم کو اے آئی کی طاقت سے سماج میں خدمت کا ذریعہ بنائے گا تو یہی معاصر عہد میں علم نافع کی واضح شکل بھی ہوگی۔
اسی طرح جب ایک دینی طالب علم مختلف تہذیبوں اور ادیان کا مطالعہ کرتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ فہمِ غیر دراصل خود فہم کی پہلی شرط ہے۔ دینی تعلیم اسی وقت کامل ہوتی ہے، جب وہ انسان کو اپنے دائرے سے نکل کر عالمِ انسانیت کے وسیع منظر سے روشناس کرائے۔ اے آئی ایسے مطالعے کی ایک وسیع دنیا فراہم کرتی ہے۔ آخر میں یاد رکھیئے کہ دینی تعلیم اور دینی تحقیق کا مقصد ایسے انسان پیدا کرنا ہے، جو فکر میں وسیع، جذبے میں خالص اور عمل میں سنجیدہ ہوں۔ علم ِدین اس وقت نور بنتا ہے، جب وہ انسان کو ظاہر سے باطن تک لے جائے اور تعلیم اس وقت تربیت بنتی ہے، جب وہ لفظ سے آگے عمل کا سفر طے کر لے۔ پس آنے والے عہد میں وہی دینی مسلح یا دینی محقق کارگر ثابت ہوگا، جو اے آئی سے استفادہ کرنے کا ہُنر جانتا ہوگا۔ یوں انسانی مستقبل کی ٹریجڈی یہ نہیں ہوگی کہ مستقبل میں اے آئی ایک عالمِ دین یا ایک دینی محقق کی جگہ لے لے گی بلکہ اگر ہم نے آج سے اے آئی کو سیکھنے کی کوشش نہ کی تو خدانخواستہ یہ ٹریجدی جنم لے گی کہ ایک عالمِ دین اے آئی سیکھنے میں پیچھے رہ جائے گا اور یوں وہ ایک مرتبہ پھر دوسروں کی امامت و رہبری کرنے کے بجائے دوسروں کے پیچھے کھڑا نظر آئے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایک دینی طالب علم دینی محقق کی جگہ ایک دینی محقق دینی تعلیم میں اے آئی اے آئی ایک اور تعلیم ایک عالم اور دینی تحقیق کی تحقیق کا کے بجائے ہوتا ہے کرتا ہے دیتی ہے کو اپنے کرتی ہے علم کے اور ان علم کو ہے اور
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔