ترقی نہیں، پسماندگی پر زیادہ فنڈ ملے گا، ریحام خان کی این ایف سی فارمولے پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
عمران خان کی سابق اہلیہ اور پاکستان رپبلک پارٹی کی بانی ریحام خان نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے فارمولے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ نظام صوبوں کو ترقی کے بجائے پسماندگی برقرار رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔
ریحام خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جتنا ٹیکس جمع ہوتا ہے اس کا 57.5 فیصد صوبوں کو دے دیا جاتا ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کس کو کتنا ملے گا اس کے لیے نمبرز دیے جاتے ہیں۔ جس میں سے 100 میں سے 82 نمبر آبادی، 10 نمبرز پسماندگی جبکہ صرف 5 نمبر ریونیو کے ہیں۔
NFC Award kya hei? Let me explain.
— Reham Khan (@RehamKhan1) November 19, 2025
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی صوبہ زیادہ پسماندہ دکھائی دیتا ہے تو اسے زیادہ حصہ ملتا ہے، جب کہ زیادہ آمدن پیدا کرنے والے صوبوں کو نسبتاً کم فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نظام میں صوبوں کے لیے ترغیب یہ بنتی ہے کہ وہ آبادی میں اضافہ اور پسماندگی برقرار رکھنے پر زیادہ انحصار کریں تاکہ وفاقی محاصل میں ان کا حصہ بڑھ سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ’یادِ ماضی عذاب ہے یا رب‘، ریحام خان نے دلہن بنے ماضی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کیا کہا؟
ان کا کہنا تھا کہ جتنا زیادہ کسی صوبے میں پسماندگی ہوگی، اتنے ہی زیادہ نمبر ملیں گے، اور جتنا زیادہ وہ کمائے گا اس کے نمبر کم ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی صوبے میں ترقیاتی کام سست روی کا شکار ہیں تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کام نہ کرنے سے زیادہ وسائل حاصل ہوتے ہیں، جب کہ بہتر کارکردگی دکھانے پر حصہ کم پڑ جاتا ہے۔
ریحام خان نے دعویٰ کیا کہ اسی فارمولے کے باعث صوبوں میں آبادی کے بے قابو اضافے اور شہروں میں بڑھتے ہوئے رش کی حوصلہ افزائی بالواسطہ طور پر ہوتی ہے، کیونکہ زیادہ آبادی کی بنیاد پر زیادہ مالی حصہ ملتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
این ایف سی این ایف سی ایوارڈ ریحام خان
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: این ایف سی این ایف سی ایوارڈ ایف سی
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ