فلسطین پر مؤقف اٹل، پاکستان کو غزہ بھیجے جانے والی فورس کا حصہ بننا چاہیے، وزیر دفاع خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کو غزہ بھیجے جانے والی فورس کا حصہ بننا چاہیے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ابراہم اکارڈ سے متعلق پاکستان کا مؤقف کلیئر ہے، دو ریاستی حل پر پاکستان کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ’اسرائیل کے خلاف مزاحمت کو جائز سمجھتے ہیں‘، حماس نے غزہ سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد مسترد کردی
انہوں نے کہاکہ افغانستان دہشتگردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے، اور پاکستان میں ہونے والی دراندازی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، سعودی عرب، یو اے ای، ایران اور چین سمیت دیگر ممالک چاہتے ہیں کہ پاکستان میں دراندازی ختم ہو۔
خواجہ آصف نے کہاکہ پاکستان دو محاذوں پر مصروف ہوگا تو فائدہ بھارت کو ہوگا، اس لیے بھارت کبھی نہیں چاہیے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ٹھیک ہوں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ بھارتی آرمی چیف کے بیانات کو نظرانداز نہیں کرسکتے، بھارت کو ہر کوئی یاد کرا رہا ہے کہ انہیں ہزیمت اٹھانا پڑی، تو ایسی صورت میں لگتا نہیں کہ وہ ہمارے ساتھ کسی معرکے کا سوچیں گے۔
متوقع 28ویں ترمیم سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ نئے صوبوں کی حمایت نہیں کروں گا، لیکن این ایف سی میں صوبوں کا حصہ کم نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہاکہ ہم صوبوں سے کہیں گے کہ دفاع اور قرضے میں اپنا حصہ ڈالیں، جبکہ لوکل گورنمنٹ سے متعلق قانون سازی وقت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہاکہ آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے ہمیں ضرور کچھ کرنا ہوگا، ورنہ ترقی ممکن نہیں۔
خواجہ آصف نے کہاکہ سب سے زیادہ طاقت بیوروکریسی کے پاس ہے، جب تک بیوروکریسی کی طاقت ختم نہیں ہوگی تب تک کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
مزید پڑھیں: 28ویں آئینی ترمیم کب آئےگی اور اس میں کیا تجاویز ہوں گی؟
خواجہ آصف نے کہاکہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا نوٹیفکیشن فوری ہو جائے گا، اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے فرائض چیف آف ڈیفنس کو منتقل ہو جائیں گے۔
سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے ٹرائل سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ مجھے اس حوالے سے کچھ معلوم نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئینی ترمیم پاکستان چیف آف ڈیفنس فورسز غزہ امن فورس وزیر دفاع وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان چیف آف ڈیفنس فورسز غزہ امن فورس وزیر دفاع وی نیوز انہوں نے کہاکہ خواجہ ا صف نے کہ پاکستان
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :