پشاور: 24 انچ ٹرانسمیشن لائن پھٹ گئی، گیس کی فراہمی شدید متاثر
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
علامتی فوٹو
پشاور میں گیس کی 24 انچ قطر کی مرکزی ٹرانسمیشن لائن پھٹنے کے باعث پشاور، مردان اور سوات کو گیس کی فراہمی متاثر ہوگئی۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق یہ لائن تینوں شہروں تک گیس پہنچانے کا اہم ذریعہ تھی۔
ڈی سی پشاور نے بتایا کہ سوئی نادرن گیس کمپنی نے متبادل 16 انچ کی لائن کے ذریعے گیس کی ترسیل شروع کردی، تاہم اس لائن کی محدود گنجائش کے باعث گیس سپلائی میں واضح کمی کا سامنا ہوگا۔
کوئٹہ کے مغربی پائی پاس پر دھماکے سے تباہ ہونے والی اٹھارہ انچ قطر کی گیس پائپ لائن کی 30 گھنٹے کے بعد مرمت مکمل ہوگئی جس کے بعد کوئٹہ، زیارت، پشین، کچلاک کو سوئی گیس کی فراہمی بحال کردی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر ثنااللّٰہ کے مطابق گھریلو صارفین کے لیے صبح 5 سے 9 بجے، دوپہر 11 سے 2 بجے اور شام 5 سے 9 بجے تک گیس فراہم کی جائے گی، جبکہ سی این جی اسٹیشنز کو عارضی طور پر بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سوئی ناردرن کے جی ایم وقاص شنواری نے کہا ہے کہ پائپ لائن دھماکے کا غالب امکان دہشت گردی ہے، کیونکہ سادہ لیکج کی وجہ سے پائپ لائن میں آگ نہیں لگتی۔
حکام کے مطابق واقعہ گزشتہ رات پیش آیا تھا، جس کے بعد مرمتی کام جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پائپ لائن کے بعد گیس کی
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔