علامتی فوٹو

پشاور میں گیس کی 24 انچ قطر کی مرکزی ٹرانسمیشن لائن پھٹنے کے باعث پشاور، مردان اور سوات کو گیس کی فراہمی متاثر ہوگئی۔ 

ڈپٹی کمشنر کے مطابق یہ لائن تینوں شہروں تک گیس پہنچانے کا اہم ذریعہ تھی۔

ڈی سی پشاور نے بتایا کہ سوئی نادرن گیس کمپنی نے متبادل 16 انچ کی لائن کے ذریعے گیس کی ترسیل شروع کردی، تاہم اس لائن کی محدود گنجائش کے باعث گیس سپلائی میں واضح کمی کا سامنا ہوگا۔

کوئٹہ، گیس پائپ لائن کی 30 گھنٹے کے بعد مرمت مکمل

کوئٹہ کے مغربی پائی پاس پر دھماکے سے تباہ ہونے والی اٹھارہ انچ قطر کی گیس پائپ لائن کی 30 گھنٹے کے بعد مرمت مکمل ہوگئی جس کے بعد کوئٹہ، زیارت، پشین، کچلاک کو سوئی گیس کی فراہمی بحال کردی گئی ہے۔

ڈپٹی کمشنر ثنااللّٰہ کے مطابق گھریلو صارفین کے لیے صبح 5 سے 9 بجے، دوپہر 11 سے 2 بجے اور شام 5 سے 9 بجے تک گیس فراہم کی جائے گی، جبکہ سی این جی اسٹیشنز کو عارضی طور پر بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سوئی ناردرن کے جی ایم وقاص شنواری نے کہا ہے کہ پائپ لائن دھماکے کا غالب امکان دہشت گردی ہے، کیونکہ سادہ لیکج کی وجہ سے پائپ لائن میں آگ نہیں لگتی۔

حکام کے مطابق واقعہ گزشتہ رات پیش آیا تھا، جس کے بعد مرمتی کام جاری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: پائپ لائن کے بعد گیس کی

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ