پشاور: حسن خیل میں گیس پائپ لائن دھماکے سے متاثر، متعدد شہروں کی گیس سپلائی معطل
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور کی تحصیل حسن خیل میں کرک سے نوشہرہ گیس پائپ لائن کے حصے میں دھماکے کے نتیجے میں 24 انچ کی گیس پائپ لائن میں آگ لگ گئی، جس سے علاقے میں گیس کی سپلائی متاثر ہو گئی۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق واقعے کی تصدیق سوئی ناردرن گیس کے جنرل منیجر وقاص شنواری نے کی اور دھماکے کے بعد پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، مردان اور سوات کے صارفین کو گیس کی فراہمی معطل ہو گئی ہے، فوری طور پر علاقے میں گیس کی سپلائی بند کرنے کے لیے ٹیمیں بھیج دی گئی ہیں۔
وقاص شنواری کے مطابق دھماکے کی نوعیت کا فوری طور پر تعین نہیں کیا جا سکا ہے اور جائے وقوعہ کا مکمل جائزہ لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور حالات پر قابو پانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید نے بتایا کہ دھماکے کی نوعیت جانچ کے مراحل میں ہے اور علاقے کے رہائشیوں کو آگ کے خطرے سے محفوظ رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سوئی گیس حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر گیس کی سپلائی بند کریں تاکہ کسی بھی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔
پولیس ذرائع کے مطابق اس واقعے میں دہشت گردی کے امکان کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
واقعہ نہ صرف مقامی باشندوں کے لیے خطرے کا سبب بنا بلکہ گیس کی بندش کے باعث بڑے پیمانے پر صارفین کی روزمرہ زندگی متاثر ہو گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نگرانی جاری ہے اور عوام کو کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گئی ہے ہے اور گیس کی
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔