گلگت، کروڑوں مالیت کی اشیا کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام، تمام اشیا ضبط
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
گلگت:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کے ماتحت ادارے پاکستان کسٹمز نے گلگت بلتستان میں سوست ڈرائی پورٹ اور بیگیج سیکشن میں موبائل فونز، اسلحے کے پرزہ جات، شراب اور سور کے گوشت کی اسمگلنگ کی بڑی کوشش ناکام بنا دی ہے اور 15 کروڑ 77 لاکھ روپے مالیت کی اشیا ضبط کر لی۔
ایف بی آر کے مطابق مصدقہ اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے کسٹمز افسران نے چین سے درآمد کی گئی دو کھیپوں کی مکمل جانچ پڑتال کی اور معائنے کے دوران کسٹمز نے ڈرائی پورٹ سے 59 ہزار نوکیا 105 موبائل فونز بمعہ بیٹری، 5 ہزار 207 ادویات کے پیکٹ (وزن 318 کلوگرام)، تین ہزار (Sildenafil Citrate ) گولیاں اور اسلحے کے مختلف پرزہ جات برآمد ہوئے۔
بیگیج سیکشن میں ایک اور کارروائی کے دوران کسٹمز اہلکاروں نے 80 بوتلیں (کل20 لیٹر) شراب اور 40 کلوگرام سور کا گوشت قبضے میں لے لیا، جو خنجراب پاس کے ذریعے پاکستان کی درآمدی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لایا جا رہا تھا۔
ایف بی آر نے بتایا کہ کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت تحویل میں لیے گئے سامان پر عائد ہونے والی ڈیوٹیز اور ٹیکس کی رقم کا تخمینہ 7 کروڑ 85 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ مزید قانونی کارروائی کی جا رہی ہے، یہ آپریشنز اسمگلنگ کے خاتمے، قومی محصولات کے تحفظ اور ممنوعہ اشیا کی ملک میں داخلے کی روک تھام کے لیے ایف بی آر کے پر عزم ہونے کا مظہر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایف بی آر
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔