ملک کے مختلف شہروں میں ٹریفک حادثات، 5 افراد جاں بحق، 39 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ٹریفک حادثات میں 2 طالبعلموں سمیت 5 افراد جاں بحق اور 39 زخمی ہوگئے۔
سیالکوٹ میں بڈیانہ روڈ پر دو تیز رفتار کاروں نے رکشے کو ٹکر ماری، حادثے میں رکشا میں سوار 3 افراد جاں بحق ہوئے۔
ریسکیو اہلکاروں کے مطابق جاں بحق افراد میں 2 بھائی اور ان کا کزن شامل ہے، دونوں کاریں آپس میں ریس لگارہی تھیں کہ حادثہ پیش آیا۔
دُنیا بَھر میں 19 سے 25 مئی تک ’’روڈ سیفٹی وِیک‘‘ منایا.
عینی شاہدین کا بتانا ہے کہ حادثے کے بعد ڈرائیورز موقع سے فرار ہوگئے۔
دوسری جانب صوابی کے علاقے شیوہ اڈہ چوک کے مقام پر دو بسیں آپس میں ٹکرا گئیں، حادثے میں 2 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہوئے۔
ادھر چارسدہ میں ترنگزئی بائی پاس پر اسکول وین اور ٹرک میں ٹکر سے 2 طالبعلم جاں بحق اور 24 زخمی ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: افراد جاں بحق
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔