گزشتہ 4 برس میں ملک میں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 7.1 فیصد ہو گئی ہے اور خیبرپختونخوا میں یہ شرح 9.2 فیصد کے ساتھ سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ پنجاب میں بیروزگاری 7.1 فیصد، سندھ میں 5.1 فیصد اور بلوچستان میں 5.4 فیصد رہی۔ اس دوران پاکستان میں بیروزگار افراد کی تعداد 59 لاکھ تک پہنچ گئی۔

Pakistan’s workforce is moving from agriculture to services, marking a major structural transformation.

????Agriculture slips from 37.4% → 33.1%, while services jump 37.2% → 41.2%.
????Mechanization reduces farm labour needs, and services are now the biggest growth engine in urban… pic.twitter.com/llqMBHiSvy

— Ministry of Planning and Development (@PlanComPakistan) November 25, 2025

وفاقی ادارہ شماریا ت نے لیبر فورس سروے 2025-2024 کی رپورٹ جاری کردی۔ جس کے مطابق ملک بھر میں قریباً 18 کروڑ افراد ورکنگ ایج میں ہیں، لیکن 9 کروڑ 65 لاکھ افراد لیبر فورس سروے سے باہر ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کے ٹیرف سے بھارت میں بڑے پیمانے پر بیروزگاری کا خدشہ

برسر روزگار افراد کی تعداد 8 کروڑ 31 لاکھ ہے، جنہیں اوسطاً 39,042 روپے ماہانہ اجرت دی جاتی ہے۔ سب سے کم اوسط اجرت پنجاب میں 38,189 روپے ریکارڈ کی گئی، جبکہ خیبرپختونخوا میں 39,974 روپے، سندھ میں 39,801 روپے اور بلوچستان میں 41,780 روپے فی کس دی جاتی ہے۔

پاکستان کے لیبر فورس سروے 2024–25 کا باقائدہ اجرا۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کا تقریب رونمائی سے اہم خطاب

پاکستان نے انٹرنیشنل کانفرنس آف لیبر اسٹیٹسٹیشنز 19 (ICLS-19) کے عالمی معیار کو اپناتے ہوئے اپنے لیبر فورس کے اعداد و شمار میں ایک اہم پیش رفت کی… pic.twitter.com/HeKutRmfFQ

— Ministry of Planning and Development (@PlanComPakistan) November 25, 2025

سروسز سیکٹر میں 3 کروڑ 18 لاکھ سے زائد افراد کام کر رہے ہیں، روزگار کی شرح 41.7 فیصد ہے۔ صنعتی شعبے میں 1 کروڑ 98 لاکھ افراد کام کر رہے ہیں (25.7 فیصد)، جبکہ زرعی شعبے میں 2 کروڑ 55 لاکھ افراد کام کر رہے ہیں، روزگار کی شرح 33.1 فیصد ہے۔

گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زرعی شعبے میں روزگار کی تعداد کم ہوئی جبکہ صنعت اور سروسز کے شعبوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مزید پڑھیں: مونال ریسٹورنٹ کے بیروزگار ہونے والے ملازمین کے لیے بڑی خوشخبری

خیبرپختونخوا میں زراعت سے 30 لاکھ، لائیو سٹاک آپریشنز سے 69 لاکھ، پولٹری سے 31 لاکھ، ہیلتھ کیئر سے 83 لاکھ اور کوکنگ، کلیننگ و دیگر سرگرمیوں میں 1 کروڑ 93 لاکھ افراد منسلک ہیں۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں بھی شعبہ وار روزگار میں مختلف تعداد ریکارڈ کی گئی۔

New ICLS-19 standards show unemployment at 7.1%, up from earlier estimates. Why?
????Climate disasters, global tightening, and an IMF stabilization cycle.
☑️Yet momentum is returning:
☑️industries are recovering,
☑️LSM is turning around, and employment opportunities are set to… pic.twitter.com/ehuaYBnboP

— Ministry of Planning and Development (@PlanComPakistan) November 25, 2025

لیبر فورس سروے کے مطابق مردوں کی ماہانہ اوسط اجرت 39,302 اور خواتین کی 37,347 روپے رہی۔ غیر رسمی شعبوں میں کام کرنے والے افراد 73 فیصد جبکہ رسمی شعبہ جات میں 26.6 فیصد ہیں۔ سروے میں فری لانسرز اور گھریلو خواتین و مرد حضرات کا ڈیٹا بھی شامل کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پنجاب خیبرپختونخوا لیبر فورس سروے وفاقی ادارہ شماریا ت

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا لیبر فورس سروے وفاقی ادارہ شماریا ت لیبر فورس سروے لاکھ افراد ریکارڈ کی کی تعداد کام کر

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن