بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی زیادہ تعداد کون سے ممالک میں ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
پاکستانیوں کی بڑی تعداد روزگار کی تلاش میں بیرون ملک مقیم ہے.
وزارت خارجہ کے مطابق اس وقت مشرقی وسطیٰ میں مجموعی طور پر 52 لاکھ 19 ہزار 72 پاکستانی روزگار یا رہائش کے سلسلے میں موجود ہیں، ملائیشیا میں ایک لاکھ 66 ہزار جبکہ تھائی لینڈ میں 50 ہزار پاکستانی موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی خواتین کے لیے خوشخبری، بیرون ملک ملازمت کی نئی راہیں کھل گئیں
ریکارڈ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے، سب سے زیادہ سعودی عرب میں 24 لاکھ 58 ہزار پاکستانی موجود ہیں۔
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں 17 لاکھ 94 ہزار 792 پاکستانی، عمان میں 3 لاکھ 58 ہزار 593 پاکستانی، قطر میں 3 لاکھ، بحرین 1 لاکھ 20 ہزار پاکستانی موجود ہیں۔
کویت میں 88 ہزار 431، عراق میں 45 ہزار، اردن میں 18 ہزار، ایران میں 7 ہزار، سائپرس میں 970، مصر میں 500 جبکہ لبنان میں 300 پاکستانی موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم محمد شہباز شریف کا سمندر پار پاکستانیوں سے اظہارِ تشکر، اکتوبر میں ترسیلاتِ زر 3.
مشرق وسطی میں موجود پاکستانیوں کی کل تعداد میں بڑی تعداد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں موجود ہے۔
سعودی عرب میں سب سے زیادہ 47 فیصد پاکستانی، متحدہ عرب امارات میں 34 فیصد پاکستانی موجود ہیں، یعنی ان 2 ممالک میں مشرقی وسطیٰ میں موجود پاکستانیوں کا 80 فیصد تعداد موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستانی موجود ہیں پاکستانیوں کی
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔