الیکشن کمشن کے نوٹس کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہوں: طلال چودھری
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
فیصل آباد (نیٹ نیوز) وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی ہمیشہ ایسا کیوں کرتی ہے کہ پنجاب میں ووٹ نہیں ڈالے جا رہے اور کے پی میں ڈالے جا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ایک ہی روز میں ہونے والے انتخاب میں 2 مختلف اصول کیوں ہیں؟ گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول میں ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ این اے 96 کے 350 پولنگ سٹیشنز پر کہیں بائیکاٹ نہیں ہوا۔ ضمنی الیکشن کے حساب سے ٹرن آؤٹ زائد ہے۔ طلال چودھری نے کہا کہ الیکشن کمشن کا نوٹس مجھے بھی ہوا، جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ الیکشن کمشن ووٹ جیسے آئینی حق کے استعمال کو روکنے والوں کا نوٹس کب لے گا۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ مریم نواز کے کام اور شہباز شریف کی کارکردگی کو پڑ رہا ہے۔ حالیہ الیکشن میں کہیں کوئی بڑا ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔