data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251126-01-27
اسلام آباد، لاہور (خبر ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) موجودہ دور حکومت میں ملک میں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 7.1 فیصد ہوگئی جو کہ سال 2020-21 میں 6.3 فیصد تھی۔اس حوالے سے وفاقی ادارہ شماریات نے قومی لیبر فورس سروے 2024-25ء کے نتائج جاری کردیے، لیبر فورس سروے کے مطابق گزشتہ پانچ سال میں بے روزگاری میں 0.
8 فیصد تک اضافہ ہوا، پاکستان میں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 7.1 فیصد ہوگئی، ملک میں اس وقت تقریبا 80 لاکھ
افراد بے
روزگار ہیں۔سروے کے مطابق سال 2023ء کی مردم شماری کے مطابق ملکی آبادی 24 کروڑ 14 لاکھ 90 ہزار ہے، لیبر فورس کی تعداد 7 کروڑ 72 لاکھ سے تجاوز کر گئی، ملک میں ورکنگ ایج پاپولیشن کی شرح 43 فیصد، غیر فعال آبادی 53.8 فیصد ہوگئی۔قومی لیبر فورس سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 3.3 فیصد آبادی بے روزگار ہے، سروسز سیکٹر روزگار کی فراہمی میں ٹاپ پوزیشن پر ہے، روزگار فراہمی میں زرعی شعبہ دوسرے اور صنعتی شعبہ تیسرے نمبر پر ہے، سروسز سیکٹر میں 3 کروڑ 18 لاکھ 30 ہزار افراد برسر روزگار ہیں، سروسز سیکٹر میں ایمپلائمنٹ کی شرح سب سے زیادہ 41.7 فیصد ہے۔زرعی شعبے میں روزگار کی شرح 33.1 فیصد ہے، زراعت کے شعبے میں 2 کروڑ 55 لاکھ 30 ہزار افراد کو روزگار میسر ہے۔ صنعتی شعبے میں روزگار کی شرح 25.7 فیصد ہے، صنعتی شعبے میں 1 کروڑ 98 لاکھ 60 ہزار افراد برسر روزگار ہیں۔پاکستان میں فی کس ماہانہ اوسط اجرت 39 ہزار 42 روپے ہے، گزشتہ پانچ سال میں اوسط ماہانہ اجرت میں 15 ہزار 14 روپے کا اضافہ ہوا، سال 2020-21 میں ماہانہ اجرت 24 ہزار 28 روپے تھی، مرد حضرات کی ماہانہ اجرت 39 ہزار 302 روپے، خواتین کی 37 ہزار 347 ریکارڈ کیا گیا۔چیف شماریات ڈاکٹر نعیم الظفر کا کہنا ہے کہ سروے میں 196 شمار کنندگان اور 34 فیلڈ فارمیشنز نے حصہ لیا، لیبر فورس سروے میں آن لائن ڈیٹا جمع کیا گیا، آئی ایم ایف کی تین شرائط دسمبر 2025 تک پوری کی جائیں گی، لائیو اسٹاک شماری کے نتائج جاری کر چکے ہیں، لیبر فورس سروے کے بعد ہاؤس ہولڈ انکم سروے بھی آئندہ ماہ جاری کیا جائے گا۔لیبر فورس سروے میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بیروزگاری کی شرح سب سے زیادہ ہے، خیبر پختونخوا میں بیروزگاری 8.81 فیصد سے بڑھ کر 9.2 فیصد ہوگئی۔لیبر فورس سروے کے مطابق پنجاب میں بیروزگاری 6.8 فیصد سے بڑھ کر 7.1 فیصد رہی، بلوچستان میں شرح 4.3 فیصد سے بڑھ کر 5.4 فیصد اور سندھ میں یہ شرح 3.9 فیصد سے بڑھ کر 5.1 فیصد ہوگئی۔لیبر فورس سروے میں بتایا گیا ہے کہ ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھنے والے 11.9 فیصد افراد بیروزگار ہیں، 2020-21 میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد میں بیروزگاری کی شرح 12.2 فیصد تھی اور سال 2025 میں گریجویشن کی ڈگری والے 10.9 فیصد افراد بیروزگار ہیں۔لیبر فورس سروے کے مطابق 2025 میں انٹرمیڈیٹ کی تعلیم رکھنے والے 12.5فیصد افراد کو روزگار نہیں ملا، 8.4 فیصد میٹرک پاس افراد جاب مارکیٹ میں جگہ نہ بنا سکے، میٹرک کی کیٹیگری میں 2020-21 میں بے روزگاری کی شرح 8.6 فیصد تھی۔میٹرک سے کم تعلیم کے حامل 6 فیصد افراد بھی بیروزگار ہیں، ان پڑھ افراد میں بیروزگاری کی شرح 3.2 فیصد سے بڑھ کر 4.4 فیصد ہوگئی۔علاوہ ازیں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کے بوجھ میں 206 فیصد کا ہوشربا اضافہ کردیا گیا، گزشتہ 3 سالوں میں معاشی ترقی کی اوسط رفتار صرف 1.8 فیصد رہنے کے باوجود ٹیکسوں میں 100 فیصد اضافہ کر دیے جانے کا انکشاف۔ نجی ٹی وی پروگرام میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں معاشی ترقی کی رفتار تقریباً دو فیصد کی بھیانک حد تک کم ہے ، مگر ٹیکس وصولی بجلی کی رفتار سے آسمان پر! پچھلے تین سال میں جی ڈی پی صرف 1.8 فیصد بڑھی، مگر ٹیکس 100 فیصد بڑھ کر ڈبل ہوگئے۔کاروباری طبقہ 131 فیصد اضافی ٹیکس دے رہا ہے، جبکہ تنخواہ دار طبقے پر 206 فیصد کا بدترین بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا ہے کہ پاکستان کی شرح نمو پچھلے 5سے 6سال میں اڑھائی سے 3 فیصد رہی۔ملکی آبادی کی رفتار اڑھائی فیصد سے بڑھ رہی ہے، پچھلے کچھ سالوں سے فی کس آمدنی میں اضافہ نہیں ہوا۔ شرح نمو کم ہو تو روزگار میں کم اضافہ ہوتا ہے، پاکستان میں بے روزگاری کا پیمانہ 22فیصد ہے، اس وقت ملک میں بے روزگاری کی تاریخی شرح ہے۔انہوں نے کہا کہ 2022 اور 2023 میں پاکستان دیوالیہ کے قریب آچکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ آئی ایم ایف نے نیا اور بہت مناسب راستہ ڈھونڈا ہے، آئی ایم ایف نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ ہمارے اداروں میں کہا ں کہاں ناکامی ہے، رپورٹ میں ٹکر اشرافیہ سے ہے، اشرافیہ کو اشارہ کیا ہے کہ مناسب طریقے سے رویہ اپنانا ہوگا۔

سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ:
میں بے روزگاری کی
روزگاری کی شرح
میں بیروزگاری
فیصد سے بڑھ کر
سروے کے مطابق
پاکستان میں
فیصد افراد
فیصد ہوگئی
روزگار ہیں
سروے میں
فیصد ہے
ملک میں
سال میں
فیصد ا
گیا ہے
پڑھیں:
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
پاکستان میں مختلف اقسام کے ایندھن کی فروخت کا ماہانہ ڈیٹا جاری(mothly data) کردیا گیا۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 23 اور ماہانہ 14 فیصد کمی آئی۔
اعداد وشمار کے مطابق مئی 2026 میں11لاکھ 72ہزارٹن پیٹرولیم مصنوعات فروخت کی گئیں، مئی میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ 23اورماہانہ14فیصد کمی آئی۔
مئی میں آئل ریفائنریز کی پیداوارمیں بھی 7فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، سب سےبڑی کمی فرنس آئل کی فروخت میں سالانہ 64اورماہانہ 79فیصد آئی، فرنس آئل کی فروخت سالانہ بنیادپر80ہزارٹن سےگرکر29ہزارٹن پرآگئی۔
مئی میں سالانہ بنیاد پرڈیزل کی فروخت 32 فیصد کم ہوکر4لاکھ 55 ہزار ٹن جبکہ سالانہ بنیاد پرپیٹرول کی فروخت 12فیصد کم ہوکر6لاکھ 17ہزار ٹن رہی۔
مزید پڑھیں:حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
مئی میں پاکستان اسٹیٹ آئل کی فروخت میں 19اوراٹک پیٹرولیم میں 30فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ وافی انرجی کی فروخت 16فیصداورحیسکول پیٹرولیم کی فروخت میں37 فیصد کمی آئی۔