Jasarat News:
2026-07-24@05:36:52 GMT

پاکستان میں 80لاکھ افراد بے روزگار,شرح بڑھ کر7.1فیصد ہوگئی

اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251126-01-27
اسلام آباد، لاہور (خبر ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) موجودہ دور حکومت میں ملک میں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 7.1 فیصد ہوگئی جو کہ سال 2020-21 میں 6.3 فیصد تھی۔اس حوالے سے وفاقی ادارہ شماریات نے قومی لیبر فورس سروے 2024-25ء کے نتائج جاری کردیے، لیبر فورس سروے کے مطابق گزشتہ پانچ سال میں بے روزگاری میں 0.

8 فیصد تک اضافہ ہوا، پاکستان میں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 7.1 فیصد ہوگئی، ملک میں اس وقت تقریبا 80 لاکھ افراد بے روزگار ہیں۔سروے کے مطابق سال 2023ء کی مردم شماری کے مطابق ملکی آبادی 24 کروڑ 14 لاکھ 90 ہزار ہے، لیبر فورس کی تعداد 7 کروڑ 72 لاکھ سے تجاوز کر گئی، ملک میں ورکنگ ایج پاپولیشن کی شرح 43 فیصد، غیر فعال آبادی 53.8 فیصد ہوگئی۔قومی لیبر فورس سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 3.3 فیصد آبادی بے روزگار ہے، سروسز سیکٹر روزگار کی فراہمی میں ٹاپ پوزیشن پر ہے، روزگار فراہمی میں زرعی شعبہ دوسرے اور صنعتی شعبہ تیسرے نمبر پر ہے، سروسز سیکٹر میں 3 کروڑ 18 لاکھ 30 ہزار افراد برسر روزگار ہیں، سروسز سیکٹر میں ایمپلائمنٹ کی شرح سب سے زیادہ 41.7 فیصد ہے۔زرعی شعبے میں روزگار کی شرح 33.1 فیصد ہے، زراعت کے شعبے میں 2 کروڑ 55 لاکھ 30 ہزار افراد کو روزگار میسر ہے۔ صنعتی شعبے میں روزگار کی شرح 25.7 فیصد ہے، صنعتی شعبے میں 1 کروڑ 98 لاکھ 60 ہزار افراد برسر روزگار ہیں۔پاکستان میں فی کس ماہانہ اوسط اجرت 39 ہزار 42 روپے ہے، گزشتہ پانچ سال میں اوسط ماہانہ اجرت میں 15 ہزار 14 روپے کا اضافہ ہوا، سال 2020-21 میں ماہانہ اجرت 24 ہزار 28 روپے تھی، مرد حضرات کی ماہانہ اجرت 39 ہزار 302 روپے، خواتین کی 37 ہزار 347 ریکارڈ کیا گیا۔چیف شماریات ڈاکٹر نعیم الظفر کا کہنا ہے کہ سروے میں 196 شمار کنندگان اور 34 فیلڈ فارمیشنز نے حصہ لیا، لیبر فورس سروے میں آن لائن ڈیٹا جمع کیا گیا، آئی ایم ایف کی تین شرائط دسمبر 2025 تک پوری کی جائیں گی، لائیو اسٹاک شماری کے نتائج جاری کر چکے ہیں، لیبر فورس سروے کے بعد ہاؤس ہولڈ انکم سروے بھی آئندہ ماہ جاری کیا جائے گا۔لیبر فورس سروے میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بیروزگاری کی شرح سب سے زیادہ ہے، خیبر پختونخوا میں بیروزگاری 8.81 فیصد سے بڑھ کر 9.2 فیصد ہوگئی۔لیبر فورس سروے کے مطابق پنجاب میں بیروزگاری 6.8 فیصد سے بڑھ کر 7.1 فیصد رہی، بلوچستان میں شرح 4.3 فیصد سے بڑھ کر 5.4 فیصد اور سندھ میں یہ شرح 3.9 فیصد سے بڑھ کر 5.1 فیصد ہوگئی۔لیبر فورس سروے میں بتایا گیا ہے کہ ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھنے والے 11.9 فیصد افراد بیروزگار ہیں، 2020-21 میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد میں بیروزگاری کی شرح 12.2 فیصد تھی اور سال 2025 میں گریجویشن کی ڈگری والے 10.9 فیصد افراد بیروزگار ہیں۔لیبر فورس سروے کے مطابق 2025 میں انٹرمیڈیٹ کی تعلیم رکھنے والے 12.5فیصد افراد کو روزگار نہیں ملا، 8.4 فیصد میٹرک پاس افراد جاب مارکیٹ میں جگہ نہ بنا سکے، میٹرک کی کیٹیگری میں 2020-21 میں بے روزگاری کی شرح 8.6 فیصد تھی۔میٹرک سے کم تعلیم کے حامل 6 فیصد افراد بھی بیروزگار ہیں، ان پڑھ افراد میں بیروزگاری کی شرح 3.2 فیصد سے بڑھ کر 4.4 فیصد ہوگئی۔علاوہ ازیں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کے بوجھ میں 206 فیصد کا ہوشربا اضافہ کردیا گیا، گزشتہ 3 سالوں میں معاشی ترقی کی اوسط رفتار صرف 1.8 فیصد رہنے کے باوجود ٹیکسوں میں 100 فیصد اضافہ کر دیے جانے کا انکشاف۔ نجی ٹی وی پروگرام میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں معاشی ترقی کی رفتار تقریباً دو فیصد کی بھیانک حد تک کم ہے ، مگر ٹیکس وصولی بجلی کی رفتار سے آسمان پر! پچھلے تین سال میں جی ڈی پی صرف 1.8 فیصد بڑھی، مگر ٹیکس 100 فیصد بڑھ کر ڈبل ہوگئے۔کاروباری طبقہ 131 فیصد اضافی ٹیکس دے رہا ہے، جبکہ تنخواہ دار طبقے پر 206 فیصد کا بدترین بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا ہے کہ پاکستان کی شرح نمو پچھلے 5سے 6سال میں اڑھائی سے 3 فیصد رہی۔ملکی آبادی کی رفتار اڑھائی فیصد سے بڑھ رہی ہے، پچھلے کچھ سالوں سے فی کس آمدنی میں اضافہ نہیں ہوا۔ شرح نمو کم ہو تو روزگار میں کم اضافہ ہوتا ہے، پاکستان میں بے روزگاری کا پیمانہ 22فیصد ہے، اس وقت ملک میں بے روزگاری کی تاریخی شرح ہے۔انہوں نے کہا کہ 2022 اور 2023 میں پاکستان دیوالیہ کے قریب آچکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ آئی ایم ایف نے نیا اور بہت مناسب راستہ ڈھونڈا ہے، آئی ایم ایف نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ ہمارے اداروں میں کہا ں کہاں ناکامی ہے، رپورٹ میں ٹکر اشرافیہ سے ہے، اشرافیہ کو اشارہ کیا ہے کہ مناسب طریقے سے رویہ اپنانا ہوگا۔

سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں بے روزگاری کی روزگاری کی شرح میں بیروزگاری فیصد سے بڑھ کر سروے کے مطابق پاکستان میں فیصد افراد فیصد ہوگئی روزگار ہیں سروے میں فیصد ہے ملک میں سال میں فیصد ا گیا ہے

پڑھیں:

سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا

کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافہ مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہا، جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونا 4 ہزار 600 روپے مہنگا ہو گیا۔

آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق اضافے کے بعد 24 قیراط فی تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے مقرر کی گئی ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 3 ہزار 944 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 71 ہزار 944 روپے ہو گئی۔

دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ فی تولہ چاندی 7 روپے اضافے کے بعد 6 ہزار 403 روپے جبکہ 10 گرام چاندی 6 روپے مہنگی ہو کر 5 ہزار 489 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جب فی تولہ سونا 4 ہزار 700 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 29 ہزار 236 روپے تک پہنچ گیا تھا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 4 ہزار 29 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 68 ہزار روپے ہوگئی تھی۔

عالمی مارکیٹ میں بھی قیمتی دھاتوں کے نرخ بڑھنے کا رجحان برقرار ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 114 ڈالر ریکارڈ کی گئی، جبکہ چاندی کی عالمی قیمت 0.07 ڈالر اضافے سے 59.24 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافے، امریکی ڈالر کی نقل و حرکت، شرح سود اور جغرافیائی کشیدگی جیسے عوامل مقامی مارکیٹ پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ