پاکستان میں بے روزگارافراد کی تعداد80لاکھ تک پہنچ گئی؛ادارہ شماریات
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
اسلام آباد: ادارہ شماریات نے کہا ہے کہ پاکستان میں بے روزگارافراد کی تعداد 80لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
ادارہ شماریات کی جانب سے لیبرفورس سروے 2024-25 میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں 5 سال میں بےروزگاری 0.8 فیصد بڑھ گئی، پاکستان میں بے روزگار افراد کی تعداد 80 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، ملک میں اوسط ماہانہ اجرت 39 ہزار 42 روپے ہوگئی۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی آبادی 24 کروڑ 14 لاکھ ہوگئی جبکہ لیبر فورس کا حجم بڑھ کر 7 کروڑ 72 لاکھ ہو گیا۔ ورکنگ ایج آبادی 43 فیصد، غیر فعال آبادی 53.
لیبر فورس سروے میں روزگار کی فراہمی میں خدماتی شعبے کو سرفہرست قرار دیا گیا ہے، سروسز سیکٹر میں 3 کروڑ 18 لاکھ افراد برسرِ روزگار ہیں جبکہ زرعی شعبے میں روزگار کی شرح 33.1 فیصد اور صنعتی شعبے میں 25.7 فیصد ہے۔
ادارہ شماریات نے بتایا کہ زراعت میں 2 کروڑ 55 لاکھ، صنعت میں 1 کروڑ 98 لاکھ افراد کو روزگار حاصل ہے، 5 سال میں اوسط اجرت میں 15 ہزار 14 روپے اضافہ ہوا۔
سروے میں بتایا گیا کہ 2020-21 میں اوسط اجرت 24 ہزار28 روپےتھی، مردوں کی اوسط ماہانہ اجرت 39 ہزار 302 جبکہ خواتین کی اوسط ماہانہ اجرت 37 ہزار 347 روپے ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ادارہ شماریات پاکستان میں
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔