قومی لیبر فورس سروے 25-2024ء میں پاکستان میں بے روزگار افراد کی تعداد سامنے آئی ہے۔

سروے نتائج کے میں بتایا گیا کہ ملک میں بیروزگاری کی شرح 7 اعشاریہ 1 فیصد ہوگئی ہے، سال 21-2020ء میں یہ شرح 6 اعشاریہ 3 فیصد تھی۔

قومی لیبر سروے کے مطابق گزشتہ 5 سال میں بیروزگاری میں صفر اعشاریہ 8 فیصد تک اضافہ ہوا جبکہ پاکستان میں اس وقت تقریباً 80 لاکھ افراد بیروزگار ہیں۔

سروے کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2023ء کی مردم شماری کے مطابق ملکی آبادی 24 کروڑ 14 لاکھ 90 ہزار ہے جبکہ پاکستان 3 اعشاریہ 3 فیصد آبادی بیروزگار ہے۔

نتائج کے مطابق قومی اقتصادی سروے میں بتایا گیا کہ سروسز سیکٹر روزگار کی فراہمی میں ٹاپ پوزیشن پر ہے جبکہ زرعی شعبہ دوسرے اور صنعتی شعبہ تیسرے نمبر پر ہے۔

سروے نتائج کے مطابق سروسز سیکٹر میں 3 کروڑ 18 لاکھ 30 ہزار افراد برسر روزگارہیں، روزگار کی شرح سب سے زیادہ 41 اعشاریہ7 فیصد ہے۔

نتائج کے مطابق زرعی شعبے میں روزگار کی شرح 33 اعشاریہ1 فیصد ہے، یہاں 2 کروڑ 55 لاکھ 30 ہزار افراد کو روزگار میسر ہے۔

سروے نتائج کے مطابق صنعتی شعبے میں روزگار کی شرح 25 اعشاریہ 7 فیصد ہے اور یہاں 1 کروڑ 98 لاکھ 60 ہزار افراد برسرروگار ہیں۔

لیبر فورس سروے کے مطابق پاکستان میں فی کس ماہانہ اوسط اجرت 39 ہزار 42 روپے ہے، ماہانہ اجرت میں 5 سال کے دوران اوسطاً 15 ہزار 14 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

سروے نتائج کے مطابق سال 21-2020ء میں ماہانہ اجرت 24 ہزار 28 روپے تھی جبکہ اس وقت مرد حضرات کی ماہانہ اجرت 39 ہزار 302 اور خواتین کی 37 ہزار 347 روپے ریکارڈ کی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ہے سروے نتائج کے نتائج کے مطابق پاکستان میں روزگار کی کی شرح

پڑھیں:

خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری  سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی