WE News:
2026-07-24@03:20:28 GMT

اچھے معاشی دن دور دور تک نظر نہیں آتے، مفتاع اسماعیل

اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT

اچھے معاشی دن دور دور تک نظر نہیں آتے، مفتاع اسماعیل

سابق وزیرخزانہ مفتاع اسماعیل نے کہا ہے کہ شرح نمو کے اچھے دن دور دور تک نظر نہیں آرہے۔

عوام پاکستان پارٹی کے رہنما و سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بے روزگاری کی شرح اس لیے بڑھ رہی ہے کہ پچھلے 3، 4 سال سے گروتھ نہیں بڑھ رہی، غربت اور مایوسی بھی بڑھ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مفتاع اسماعیل نے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، اویس لغاری

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ایک بات اچھی ہے کہ اوسط تنخواہ جو پچھلے سال 24 ہزار تھی اب بڑھ کر 38 ہزار ہوگئی ہے، یعنی 14 ہزار روپے ورکرز کی تنخواہیں بڑھی ہیں، لیکن اگر مہنگائی کے حساب سے دیکھیں تو تنخواہیں مزید کم ہوگئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نوکری پیشہ افراد کے لیے اپنے روزانہ کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے اور جن کو نوکری نہیں مل رہی وہ بہت زیادہ قرضے میں ڈوب چکے ہیں، شرح نمو میں بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آرہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سچ بولنے کی سزا مل رہی ہے، مفتاح اسماعیل، میں نے کرپشن کا الزام نہیں لگایا، طارق فضل چوہدری کی وضاحت

ان کا کہنا تھا کہ امپورٹس کم ہورہی ہیں، مسائل بڑھ رہے ہیں، روپیہ 4 فیصد مہنگا ہوگیا ہے، 6 فیصد شرح نمو کے دور دور تک کوئی آثار نظر نہیں آرہے اگر حکومت نے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہ کیے تو۔

انہوں نے کہا کہ جو کرنے کے کام ہیں، مثال کے طور پر این ایف سی میں صوبوں کے شیئرز کم کرنا، ٹیکس ریٹ کم کرنا، حکومتی اخراجات کم کرنا، پرائیویٹائزیشن کرنا، حکومت کی نفری کم کرنا، بجلی کی نجکاری کرنا، یہ کرنے کے کام ہیں جو ہم نہیں کررہے۔

یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی شاہد خاقان اور مفتاح اسماعیل کو نئی پارٹی کی لانچنگ پر مبارکباد

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت نے ابھی پھر زرعی ٹیکس مؤخر کردیا، حکومت نے طے کرلیا ہے کہ اگر کوئی 50 ہزار یا ایک لاکھ روپے ماہانہ کما رہا ہے تو اس سے ہم ٹیکس لیں گے تاہم اگر کسی کی ہزار ایکڑ زرعی اراضی ہے تو اس سے ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں آیا ہے کہ ہر سال کرپشن اور بیڈ گورننس سے ہم جی ڈی پی میں ہر سال 5 سے 6 فیصد نقصان کردیتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news سابق وزیر خزانہ شرح نمو عوام پاکستان پارٹی مفتاع اسماعیل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: عوام پاکستان پارٹی مفتاع اسماعیل مفتاح اسماعیل مفتاع اسماعیل اسماعیل نے نے کہا کہ نظر نہیں رہی ہے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن