برطانوی وزیر خزانہ نے پارلیمنٹ میں نئے مالی سال کا بجٹ پیش کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برطانوی وزیر خزانہ (چانسلر) ریچل ریوز نے پارلیمنٹ میں نئے مالی سال کا بجٹ پیش کر دیا، جس میں قومی قرضے کی کمی اور زندگی کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات شامل ہیں۔ بجٹ تفصیلات ریچل ریوز کی تقریر سے کچھ دیر قبل لیک ہونے کے بعد آفس آف بجٹ رسپانسیبیلٹی نے اسے تکنیکی غلطی قرار دیا۔
چانسلر نے اعلان کیا کہ انکم ٹیکس اور نیشنل انشورنس کی ادائیگی کی کم از کم حد مزید تین سال، یعنی 2031 تک منجمد رہے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اقدام سے کم آمدنی والے افراد اضافی ٹیکس بینڈ میں آنے سے بچیں گے۔ حکومت نے کہا کہ انرجی بلز میں کمی کے لیے گرین لیویز میں کٹوتی کی جائے گی، جس سے اپریل 2025 سے صارفین کی بچت 150 پاؤنڈ تک ہو گی۔
بجٹ کے تحت سیلری سیکریفائز اسکیم میں بھی تبدیلی کی گئی ہے، اب لوگ صرف دو ہزار پاؤنڈ تک کی رقم پینشن میں جمع کر سکیں گے، جبکہ دو ہزار سے زائد کی رقم پر ملازم اور ایمپلائر کو نیشنل انشورنس ادا کرنا ہوگا۔ اپریل 2029 سے یہ اطلاق ہوگا۔ چانسلر نے بتایا کہ پوری شرح کی نئی پینشن حاصل کرنے والوں کو اپریل سے 550 پاؤنڈ اضافہ ملے گا۔
پراپرٹی ٹیکس میں بھی تبدیلی کی گئی ہے، دو ملین پاؤنڈ سے زائد مالیت والے گھروں پر 2,500 پاؤنڈ اور پانچ ملین پاؤنڈ سے زائد مالیت والے گھروں پر 7,500 پاؤنڈ سالانہ ٹیکس عائد ہوگا۔ الیکٹرک اور پلگ ان ہائبرڈ گاڑیوں پر نیا ٹیکس اپریل 2028 سے نافذ ہوگا، جبکہ فیول ڈیوٹی اگست تک منجمد رہے گی اور بعد ازاں مرحلہ وار بڑھائی جائے گی۔ الیکٹرک کار گرانٹ اسکیم کے لیے اضافی 1.
کیش انڈیویجوئل سیونگ اکاؤنٹس کی سالانہ ٹیکس فری رقم کی حد 20 ہزار پاؤنڈ برقرار رہے گی، لیکن 8 ہزار پاؤنڈ سرمایہ کاری کے لیے مختص ہوں گے۔ 65 برس سے زائد عمر کے افراد مکمل کیش الاؤنس کے حقدار رہیں گے۔ چائلڈ بینفیٹ کی شرط، جو دو بچوں تک محدود تھی، آئندہ برس اپریل سے ختم ہو جائے گی۔ 18 ماہ سے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار تلاش کرنے میں مدد کے لیے معاوضہ کے ساتھ کام کی جگہ فراہم کی جائے گی۔
بجٹ میں درآمدی قوانین، پراپرٹی اور سیونگ کے منافع پر ٹیکس میں اضافہ، اور گیملنگ ٹیکس میں تبدیلی کے اقدامات بھی شامل ہیں، جن سے مجموعی طور پر 1.1 بلین پاؤنڈ کی آمدنی متوقع ہے۔ چینی آن لائن کمپنیوں کو برطانیہ میں سستا سامان فروخت کرنے پر درآمدی ڈیوٹی ادا کرنا ہوگی، جبکہ دودھ سے بنے مشروبات پر شوگر ٹیکس بھی برقرار رہے گا۔
بجٹ پیش کرنے کے موقع پر پارلیمنٹ کے باہر کسانوں نے اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کیا۔ اپوزیشن لیڈر کیمی بیڈینوک نے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریچل ریوز نے اپنے ہر وعدے سے انحراف کیا اور گزشتہ سال 40 بلین پاؤنڈ کا نیا ٹیکس عائد کیا تھا۔
یہ بجٹ برطانیہ میں زندگی کے اخراجات، توانائی کے بلز، پینشن اسکیمز اور ٹیکس نظام میں بڑے اصلاحی اقدامات کے حوالے سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اہمیت کا حامل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز