54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وفاقی وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب میں وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معیشت میں استحکام کے واضح اشارے سامنے آرہے ہیں، او آئی سی سی آئی سروے کے مطابق سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ انرجی، مائننگ اور آٹو سیکٹر کی عالمی کمپنیاں پاکستان میں دلچسپی لے رہی ہیں، ٹیکس نظام کا مکمل ڈیجیٹلائزیشن ایجنڈا تیزی سے جاری ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ٹیکس پالیسی ایف بی آر سے وزارت خزانہ منتقل، نیا ٹیکس پالیسی آفس فعال ہوچکا ہے، بزنس کمیونٹی سے سال بھر مشاورت کا نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ اسٹیٹ اونڈ انٹر پرائزز اور سرکاری اداروں کی ری اسٹرکچرنگ تیزی سے جاری ہے، کئی وزارتوں اور محکموں کے انضمام اور خاتمے کا عمل جاری ہے۔ پالیسی فیصلے مکمل شفافیت اور حقائق کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ ڈیجیٹل پاکستان وزیر اعظم کی ہفتہ وار نگرانی میں تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے، ملک کو کیش اکانومی سے ڈاکومنٹڈ اکانومی کی طرف لے جانے کے اقدامات کر رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اوسط قرض میچورٹی بڑھ کر 4 سال کردی، ری فنانسنگ رسک میں کمی ہوئی ہے، نیا کنٹریبیوٹری پنشن سسٹم 2024ء فعال کیا، اس میں 9 ہزارسے زائد ملازمین شامل ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ گیارہویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، پاکستان پہلا پانڈا بانڈ چینی نئے سال سے قبل جاری کرنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ کرپٹو اور ڈیجیٹل اثاثوں کےلیے ریگولیٹری نظام فعال ہونے کے قریب ہے، 3.
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ درمیانی مدت میں گروتھ 6 سے7 فیصد تک جاسکتی ہے، ترسیلات زر میں استحکام، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی کارکردگی مثبت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مالیاتی حالات بہتر ہونے سے قرض لاگت میں کمی متوقع ہے، غیرملکی سرمایہ کاروں کے سیکیورٹی خدشات دور کرنا حکومتی ترجیح ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ منافع کی واپسی، استحکام اور سکیورٹی سرمایہ کاری کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سینیٹر محمد اورنگزیب نے وفاقی وزیر خزانہ نے نے کہا کہ
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔