ریلوے انتظامیہ کی جانب سے گرینڈ آپریشنز اور درجنوں مقدمات درج کروانے کے باوجود اربوں روپے مالیت کی 8 ہزار 400 ایکڑ اراضی پر تاحال قبضہ برقرار ہے۔

ایکسپریس نیوز کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق پاکستان ریلویز کی زیر ملکیت ملک بھر میں ایک لاکھ 68 ہزار 858 ایکڑ اراضی ہے،  جس میں سے 91 ہزار 601 ایکڑ اسلام آباد میں ایک ہزار 102 ایکڑ سندھ میں 38 ہزار 723 ایکڑ کے پی کے میں 9 ہزار 51 ایکڑ اور بلوچستان میں 28 ہزار 381 ایکڑ اراضی شامل ہے۔

اس میں سے 28 ہزار 400 ایکڑ اراضی پر قبضہ ہو چکا تھا پھر پاکستان ریلویز انتظامیہ نے لاہور سمیت ملک بھر میں قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی شروع کی اور 20 ہزار ایکڑ اراضی قبضہ مافیا سے واپس لی جبکہ 8 ہزار 400 ایکڑ اراضی پر  قبضہ تاحال برقرار ہے۔

پاکستان ریلویز نے سال 2015 میں جیو گرافکس انفارمیشن ٹیکنالوجی کے زریعے سروے شروع کیا جو سال 2018 میں مکمل ہوا، پھر اس سروے کی مدد سے پاکستان ریلویز لینڈ انفارمیشن سسٹم بنایا گیا جس میں پاکستان ریلویز کی تمام لینڈ کا ڈیٹا بشمول نقشے کے ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

ریلوے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قابضین کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کا عمل جاری ہے جو اراضی ابھی چھڑائی نہ جا سکی ان سے جلد یہ اراضی بھی حاصل کر لی جائے گی اور پھر وفاقی وزیر حنیف عباسی کے احکامات کی روشنی میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت اس کو استعمال میں لایا جائے گا تاکہ ریلوے کی آمدنی میں اضافہ ہوسکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان ریلویز ایکڑ اراضی

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟