پاکستان ریلویز: 11 مزید ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ، اوپن نیلامی 3 دسمبر کو ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
پاکستان ریلویز نے مسافروں کو جدید سہولیات فراہم کرنے کے لیے مزید 11 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ ان ٹرینوں کی نیلامی 3 دسمبر کو پاکستان ریلویز ہیڈکوارٹر میں اوپن بولی کے ذریعے ہوگی۔
ریلوے انتظامیہ نے مسافروں کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے نہ صرف اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن کا عمل شروع کیا ہے بلکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت یہ ٹرینیں آؤٹ سورس کرنے کی بھی تیاری کر رہی ہے۔ آؤٹ سورسنگ کے قوانین کے مطابق دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں نے اپنی دستاویزات ریلویز انتظامیہ کے سپرد کر دی ہیں، جن کی جانچ پڑتال جاری ہے۔
دستاویزات کی جانچ کے بعد 3 دسمبر کو اوپن بولی ہوگی، اور وہ کمپنی جس نے سب سے زیادہ بولی دی ہوگی، اسے متعلقہ ٹرین کی خدمات کی فراہمی کا حق مل جائے گا۔
جن ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کی جائے گی، ان میں ہزارہ ایکسپریس، ملت ایکسپریس، بہاالدین زکریہ ایکسپریس، فرید ایکسپریس، بدر ایکسپریس، غوری ایکسپریس، راوی ایکسپریس، تھل ایکسپریس، میانوالی ایکسپریس، فیض احمد فیض پسنجر، منجو دوڑو پسنجر ٹرین شامل ہیں۔
واضح رہے کہ ریلویز انتظامیہ پہلے ہی 8 ٹرینوں کو آؤٹ سورس کر چکی ہے، جن میں شالیمار، پاک بزنس اور دیگر ٹرینیں شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ٹرینوں کی
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔