پاکستان ریلویز نے مسافروں کو جدید سہولیات فراہم کرنے کے لیے مزید 11 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ ان ٹرینوں کی نیلامی 3 دسمبر کو پاکستان ریلویز ہیڈکوارٹر میں اوپن بولی کے ذریعے ہوگی۔
ریلوے انتظامیہ نے مسافروں کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے نہ صرف اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن کا عمل شروع کیا ہے بلکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت یہ ٹرینیں آؤٹ سورس کرنے کی بھی تیاری کر رہی ہے۔ آؤٹ سورسنگ کے قوانین کے مطابق دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں نے اپنی دستاویزات ریلویز انتظامیہ کے سپرد کر دی ہیں، جن کی جانچ پڑتال جاری ہے۔
دستاویزات کی جانچ کے بعد 3 دسمبر کو اوپن بولی ہوگی، اور وہ کمپنی جس نے سب سے زیادہ بولی دی ہوگی، اسے متعلقہ ٹرین کی خدمات کی فراہمی کا حق مل جائے گا۔
جن ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ کی جائے گی، ان میں ہزارہ ایکسپریس، ملت ایکسپریس، بہاالدین زکریہ ایکسپریس، فرید ایکسپریس، بدر ایکسپریس، غوری ایکسپریس، راوی ایکسپریس، تھل ایکسپریس، میانوالی ایکسپریس، فیض احمد فیض پسنجر، منجو دوڑو پسنجر ٹرین شامل ہیں۔
واضح رہے کہ ریلویز انتظامیہ پہلے ہی 8 ٹرینوں کو آؤٹ سورس کر چکی ہے، جن میں شالیمار، پاک بزنس اور دیگر ٹرینیں شامل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ٹرینوں کی

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان